کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) تاجروں اور صنعت کاروں کے حق میں وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)ظفر حجازی کا بولڈ فیصلہ،سپر ٹیکس کی وصولی زیر التواء ری فنڈکلیم کی ایڈجسٹمنٹ سے مشروط ، ایف ٹی او نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کی ری فنڈ ڈیمانڈ کے متبادل ایڈجسٹ کی پیشکش منظو ر کرنے کی بجائے محکمہ کا کیش وصولی پر اصرار دھونس اور ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت دی ہے کہ تمام ان لینڈ ریونیو فیلڈ دفاتر پر واضح کریں کہ سپر ٹیکس کی وصولی صرف اس صورت میں کی جائے جب ٹیکس دہندہ کے زیر التوا ریفنڈ کلیمز کو ایڈجسٹ کیا گیا ہو۔ایف ٹی او کی ہدایت میں کہا گیا ہےکہ کمشنر ان لینڈ ریونیو، ری فنڈ زون، آر ٹی او فیصل آباد اپنی ضابطہ کار کے مطابق ٹیکس سال 2024 کے لیے شکایت گزار کی ریفنڈ درخواست کو قانونی طور پر نمٹائیں اور ٹیکس دہندہ کو مناسب سماعت فراہم کرنے کے بعد 45 دن کے اندر ایف ٹی او کو عمل درآمد کی رپورٹ پیش کریں۔وفاقی ٹیکس محتسب نے کہا کہ ری فنڈ کی پراسیسنگ میں تاخیر اور موجودہ ریفنڈ کلیم کے باوجود کیش میں ٹیکس کی وصولی پر اصرار محکمہ کی طرف سے بدانتظامی اور من مانی رویہ ہے۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے یہ فیصلہ فیصل آباد کے ایک صنعت کار کی شکایت سنایا یہ شکایت فیڈرل ٹیکس آمدن آرڈیننس، 2000 کے تحت دائر کی گئی تھی جس میں ٹیکس سال 2024 کے لیے 4.506 ملین روپے کے انکم ٹیکس ری فنڈ کی عدم ادائیگی کا معاملہ تھا۔ شکایت گزار نے 13 اگست 2025 کو ریفنڈ درخواست ای-فائل کی تھی اور 17 دسمبر 2025 اور 6 جنوری 2026 کو یاد دہانی بھی کرائی مگر محکمہ نے مقررہ مدت میں ریفنڈ درخواست پر کارروائی نہیں کی۔کارروائی کے دوران یہ معلوم ہوا کہ محکمہ نے 11 فروری 2026 کو سیکشن 4C کے تحت اسی ٹیکس سال کے لیے 1.548 ملین روپے کا سپر ٹیکس ڈیمانڈ بھی جاری کر دیا جس پر شکایت گزار نے درخواست کی کہ ری فنڈ رقم کو اسی ٹیکس سال کے ڈیمانڈ کے متبادل ایڈجسٹ کر لیا جائے تاکہ جبری وصولی سے بچا جا سکے۔ ایف بی آر کے نمائندے نے وفاقی محتسب کو بتایا کہ غیر رسمی طور پر سپر ٹیکس کی وصولی نقد رقم کے ذریعے کی جاتی ہے اور ری فنڈ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دی جاتی مگر وہ اس کی کوئی قانونی بنیاد پیش نہ کرسکے ۔ جس پر ایف ٹی او نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کی ریفنڈ کو ڈیمانڈ کے متبادل ایڈجسٹ کرنے کی پیشکش معقول تھی اور محکمہ کا کیش وصولی پر اصرار دھونس اور ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ایف ٹی او نے اپنے فیصلے میں کہا کہ زیر التوا ریفنڈ کو سپر ٹیکس ڈیمانڈ کے متبادل ایڈجسٹ نہ کرنا اور کیش میں ادائیگی پر اصرار کرنا غیر منطقی، من مانی اور امتیازی رویہ ہے جو ایف ٹی او آرڈیننس کے تحت بدانتظامی میں شمار ہوتا ہے۔
