کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) ایف پی سی سی آئی اپنے سابق صدر میاں محمد ادریس کے خلاف ایف آئی اے کے مقدمے اور تفتیش کے خلاف کھل کر سامنےآگئی،ایف پی سی سی آئی کا الزام ہے کہ ہمارے سابق صدر کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے ،ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں محمد ادریس پر ایف آئی اے فیصل آباد اینٹی کرپشن سرکل نے کچھ ہفتے قبل ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میاں محمد ادریس کی کمپنی ستارہ گروپ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (فیسکو ) افسران کےساتھ ملکر 11.96 ارب روپے کا فراڈ کیا ہے ،ایف پی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل بریگیڈیئر (آر ) افتخار اپل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں جمعرات کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں میاں محمد ادریس کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کے خلاف کاروباری برادری کی اجتماعی آواز کے ذریعے اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھانے اور اس کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس مقصد کے لئے ایف پی سی سی آئی نے پاکستان کی تمام کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کی نمائندگی کرنے والی ایک اعلیٰ سطح کی رابطہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی منظور الحق ملک کریں گے،جبکہ سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل، سینیٹر میاں محمد عتیق اور سینیٹر طلحہ محمود اس کے اراکین ہوں گے،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے بیان میں ممتاز صنعتکار اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں محمد ادریس کے ساتھ مبینہ طور پر جاری ناروا سلوک، ہراساں کیے جانے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر گہری تشویش، صدمے اور شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پوری کاروباری اور صنعتی برادری میاں محمد ادریس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ میاں محمد ادریس ایک قابلِ احترام قومی شخصیت ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ممتاز تجارتی رہنماؤں، صنعتکاروں اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد کو بلاجواز ہراساں کرنا اور جبری اقدامات کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے کاروباری برادری کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو فوری طور پر معاشی بحالی، سرمایہ کاری کے اعتماد اور صنعتی تسلسل کی ضرورت ہے، اس نوعیت کے واقعات ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک پیغام کا باعث بنتے ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے سِتارہ انرجی لمیٹڈ، سِتارہ کیمیکل انڈسٹریز اور فیسکوکے درمیان ایک دہائی پرانے بجلی کی خریداری کے معاہدوں سے متعلق جاری کارروائی پراپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ 2007 سے 2015 کے دوران ہونے والے ان تاریخی کمرشل معاہدوں کی تحقیقات کئی سال تک ادارہ جاتی فائلوں میں زیرِ التوا رہیں، تاہم اب ایک تجربہ کار کاروباری رہنما کو اچانک ایئرپورٹ پر آف لوڈ کرنا اور انتظامی سطح پر ہراساں کرنا، شفاف اور منصفانہ قانونی عمل کے بجائے غیر ضروری سخت گیری کا مظہر ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ریاستی اداروں اور انتظامی محکموں کو ہمیشہ قانونی تقاضوں، انسانی وقار اور مروجہ قانونی و آئینی ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام سے براہِ راست اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کے ذریعے کارروائی اور احتساب یقینی بنائیں اور پاکستان کے صنعتکاروں، کاروباری رہنماؤں اور دیگر کاروباری شراکت داروں کے لیے باعزت، محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر کے خلاف مقدمے میں بڑی پیش رفت ہو چکی ہے ،اور جلد ان کی گرفتاری متوقع ہے ،ایف پی سی سی آئی کی قیادت اس قرار داد سے قبل نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے میاں ادریس کےکیس میں ریلیف کی اپیل کر چکی ہے لیکن ایف آئی اے حکام کی جانب سے پیش کئے جانے والے شواہد کی بنیاد پر انھیں وہاں سے کوئی ریلیف نہیں ملا جس پر اب ایف پی سی سی آئی نے کمیٹی بنا کر دباو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ،
