کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) چین کی کمپنی نےتوانائی کی دنیا میں ایک انقلابی ایجاد کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موبائل فون ہوں یاپھرمصنوعی ذہانت کے آلات، جدید سینسرز، چھوٹے ڈرونز، اور مائیکرو روبوٹس وغیرہ کو مستقبل میں چارجز کے جھنجٹ سے نجات مل جائے گی ، عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چین کی کمپنی بیٹا وولٹ نے ایک جدید نیوکلیئر بیٹری تیار کرنے کا دعو یٰ کیا ہے کہ جسے ایک بار مکمل چارج کرلیا گیا تو پھر یہ 50 سال تک کام کرتی رہے گی ، کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ انوکھی بیٹری سخت ترین گرم اور سخت ترین سرد موسم میں بھی میں بھی کام کر سکے گی اور اسے کسی طرح کے مینٹیننس کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ،کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی آزمائش کامیاب ہے یہ مکمل ہونے کے بعد جلد بیٹری کو استعمال اور فروخت کے لئے پیش کردیا جائے گا۔ مذکورہ بیٹری 3 واٹ کی ہے اور اسے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے، مذکورہ بیٹریز تیار ہونے کے بعد انہیں موبائل فونز، ڈرونز، اسمارٹ ڈیوائسز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی حامل ڈیوائسز میں نصب کیا جا سکے گا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ محفوظ، غیر آتش گیر ہے اور انتہائی درجہ حرارت یا ماحول میں بھی کام کر سکتی ہے
