کراچی( نیوزلیب رپورٹ ) پاکستان کا غذائی نظام عدم توازن کا شکار ہے ، صحت بخش، غذائیت سے بھر پور خوراک کی کمی ہے ، اناج، چینی اور خوردنی تیل کا استعمال زیادہ جبکہ پھلوں ، سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کا استعمال کم ہے ،مٹھائیوں اور اسنیکس کا استعمال تشویش ناک حد تک بڑھ رہا ہے ، شہروں کی نسبت دیہی گھرانوں میں زیادہ چینی اور چکنائی استعمال کی جاتی ہے ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چینی کا استعمال زیادہ ہے ، ان غلط غذائی رجحانات سے پاکستان میں موٹاپے اور غذا سے متعلق غیر متعدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، یعنی ہر تین میں سے ایک بالغ فرد متاثر ہے ،پاکستان میں دل کے امراض سے سالانہ تقریباً 4 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، یہ انکشافات اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں ، یہ تجزیہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت( ایف اے او) کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈی نیٹر، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اور اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں ڈبلیو ایف پی، یونیسیف، آئی ایف اے ڈی اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے ، اور اس کے نتائج پاکستان میں پائیدار غذائی نظام کی تبدیلی کے لیے مربوط روڈمیپ پر قومی نتائج کے اجراء کی ورکشاپ میں پیش کیے گئے،
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کا غذائی نظام کیلوریز تو کافی مقدار میں پیدا کر رہا ہے، مگر صحت بخش، غذائیت سے بھرپور اور متنوع خوراک کی فراہمی میں کمی ہے۔اس طرح پاکستان میںخوراک کی دستیابی میں گہرے ساختی عدم توازن موجود ہیں، جو غذائیت، عوامی صحت اور طویل مدتی ترقیاتی نتائج کو متاثر کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان میں مجموعی طور پر غذائی توانائی (کیلوریز) کی دستیابی مناسب ہے، تاہم قومی سطح پر خوراک کی فراہمی 2018 کی قومی غذائی ہدایات کے مطابق صحت مند غذا کی ضروریات پوری نہیں کرتی۔اہم غذائی گروپس، خصوصاً پھلوں اور سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کی دستیابی میں نمایاں کمی برقرار ہے۔ یہ کمی براہِ راست غذائی قلت، مائیکرو نیوٹرینٹس (خرد غذائی اجزاء) کی کمی اور غذا سے متعلق بیماریوں پر قابو پانے کی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کا غذائی نظام اناج، چینی اور خوردنی تیل کی ضرورت سے زیادہ استعمال پر مبنی ہے، جو صحت مند غذا کے لیے تجویز کردہ سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ عدم توازن اناج پر مبنی خوراک کے رجحان کو مضبوط کرتا ہے، غذائی تنوع کو محدود کرتا ہے اور غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں اضافہ کرتا ہے۔دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں اناج اور غلے خوراک کا بڑا حصہ ہیں، خصوصاً دیہی گھرانوں میں ان پر زیادہ انحصار پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس سے کیلوریز کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے، مگر خوراک کے معیار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء قومی سطح پر دوسری سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذائی گروپ ہیں،لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اس کا استعمال کچھ کم ہے۔سبزیوں کا استعمال درمیانی سطح پر ہے، مگر پھلوں کا استعمال مسلسل کم ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جو وسیع پیمانے پر خرد غذائی اجزاء کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دودھ کے علاوہ پروٹین کے دیگر ذرائع محدود ہیں۔ گوشت، مرغی اور انڈوں کا استعمال مجموعی طور پر کم ہے اور دیہی علاقوں میں خاص طور پر محدود ہے۔دالوں کا استعمال بھی اتنا نہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذا کی کمی کو پورا کر سکے۔رپورٹ میں مٹھائیوں اور اسنیکس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق ۔ دیہی گھرانے شہری گھرانوں کے مقابلے میں زیادہ چینی اور چکنائی استعمال کرتے ہیں، جو سستی اور زیادہ توانائی والی غذا پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔صوبائی سطح پر واضح فرق پایا گیا، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چینی کا استعمال زیادہ دیکھا گیا۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں پراسیسڈ خوراک کی فروخت حالیہ برسوں میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جو غذائی عادات میں تیزی سے تبدیلی اور عوامی صحت پر اس کے سنگین اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ غذائی رجحانات پاکستان میں غذائی قلت کے دوہرے بوجھ کا سبب بن رہے ہیں، جہاں ایک طرف غذائی کمی موجود ہے اور دوسری جانب موٹاپے اور غذا سے متعلق غیر متعدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔قومی اور بین الاقوامی اندازوں کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، یعنی ہر تین میں سے ایک بالغ فرد متاثر ہے۔ غیر متعدی امراض اب ملک بھر میں ہونے والی 58 فیصد اموات کا سبب ہیں، جبکہ صرف دل کے امراض سالانہ تقریباً 4 لاکھ جانیں لے لیتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر غذائی نظام کی بہتری کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحانات صحت کے نظام اور معاشی پیداواری صلاحیت پر شدید دباؤ ڈالتے رہیں گے۔اپنی سفارشات میں رپورٹ نے زور دیا کہ حکومت مراعات اور سبسڈی کی حکمتِ عملی میں تبدیلی کے ذریعے غذائیت سے بھرپور اشیاء، خصوصاً پھلوں، سبزیوں اور دالوں کی پیداوار، استطاعت اور دستیابی بڑھائے تاکہ ملک بھر میں صحت مند غذا کو فروغ دیا جا سکے۔رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ حکومت چینی، میٹھے مشروبات اور مٹھائیوں پر ٹیکس میں اضافہ پر غور کرے اور حاصل ہونے والی آمدنی کو غذائیت اور صحت مند خوراک کے پروگراموں پر خرچ کرے، جبکہ ایسی کمپنیوں کو ٹیکس مراعات یا ترجیحی خریداری کی سہولت دی جائے جو چینی کے استعمال میں کمی کے اہداف حاصل کریں
