کراچی ( نیوز لیب رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) پنجاب کی قیادت نے قومی مفاہمت کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنمائوں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل کے ذریعے میڈیا کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان قیدی رہنمائوں نے کہا ہےکہ تحریک طالبان پاکستان کی وجہ سے دہشتگردی میں اضافہ، افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بگڑتی صورتحال، ایران پرامریکا اور اسرائیل کا حملہ ، اور تہران کی جوابی کارروائی نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں پیشرفت پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کے بعد تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں حالیہ معاشی استحکام پر فوری اثر ڈالیں گی جو پاکستان کے عوام نے بڑی قیمت ادا کر کے حاصل کیا تھا۔ا خلیجی ممالک میں بڑھتی کشیدگی ہمارے ترسیلات اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثر ڈالے گی ،ان رہنماوں نے کہا کہ ملک بھر میں عوامی احتجاج اور غصے کے باعث ہونے والی اموات تشویشناک ہیں جس کا تعلق ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کے بعد اٹھنے والے مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات کے تحت معمول کے کاروبار کی صورتحال ممکن نہیں رہی اور یہ پاکستان کی معیشت، سکیورٹی اور استحکام پر منفی اثر ڈالیں گے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرے اور کہا کہ قومی مفاہمت وقت کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی رہنمائوں نے بھارت کے فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ وہ انڈس واٹرز ٹریٹی کو موخر رکھے ہوئے ہے ،جہلم اور چناب ندیوں پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور پاکستان اندرونی طور پر پانی کے منصوبوں پر اتفاق رائے نہ کر سکا جسے نہ صرف خطرناک بلکہ زرعی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کی سہولت نہیں رہی لہٰذاہمیں فوری طور پر مفاہمت کرنی ہوگی۔
