کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) سندھ میں اربوں کی گندم چوری اب ہرسال کا معمول بن گیا ہے ،احتساب نہ ہونے سے ہرسال عوام ٹیکس کے 100 ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں ،سندھ میں گندم کی خرد برد کا سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے لیکن آج تک محکمہ خوراک کے ملوث بااثر افسران کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہو تی ،ان خیالات کا اظہارپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سندھ میں گندم اسکینڈل پر ردعمل دیتے ہوئے کیا ،انھوں نے کہا ہر سال 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم میں خوردبرد ایک سنگین مسئلہ بن چکاہے۔ رواں سال بھی 14 ارب روپے کی گندم مبینہ طور پر غائب کر دی گئی جبکہ 10 ارب روپے مالیت کی گندم گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہو گئی، جو محکمہ خوراک سندھ کی بدترین نااہلی اور ناقص انتظامی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ خوراک اس وقت تقریبا 200 ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے، جو عوامی وسائل کے بے دریغ ضیاع کا واضح ثبوت ہے۔حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت ہر سال عوام کے ٹیکس کے پیسے کا غلط استعمال کر کے 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان کرتی ہے، مگر اس کرپشن پر کوئی موثر احتساب نظر نہیں آتا۔ سندھ حکومت کی مسلسل نااہلی اور کرپشن کے باعث عوام کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے ، عام آدمی مہنگائی اور بدانتظامی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔ سندھ بھر میں آٹا مہنگا فروخت کیا جارہا ہے جبکہ کسانوں کو گندم کا مناسب نرخ نہیں دیا جاتا۔ سندھ کے محکمہ خوراک کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں قائم سرکاری گوداموں سے سنہ 2022 سے 2024 کے دوران تقریبا چار ہزار ٹن گندم چوری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ چوری محکمہ خوراک سندھ کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے کی گئی، جہاں گندم کو نہ صرف غائب کیا گیا بلکہ بعد ازاں اسے خراب ظاہر کر کے مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت بھی کیا گیا۔حلیم عادل شیخ نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے مالیت کی اس سنگین کرپشن کے باوجود آج تک محکمہ خوراک کے ملوث باثر افسران کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی ؟۔حلیم عادل نے مطالبہ کیا کہ گندم اسکینڈل کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
