کراچی (نیوز لیب رپورٹ) وفاقی حکومت کا قرضوں پر بڑھتا انحصار خطرناک رحجان ہے ،ہماری مالیاتی صورتحال نے خطرے کا الارم بجا دیئے ہیں ،نئے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لئےٹیکس وصولی کا ہدف 15.26 ہزار ارب روپےمقرر کیا گیا ہے ،اس میں سے 8.054 ہزار ارب سود کی ادائیگی میں چلا جائے گا ، پالیسی ساز قرضوں پر انحصار کرنے والی حکمت عملی پر نظرثانی کریں ، اسٹیٹ بینک سے قرض پر پابندی کے بعد حکومت کمرشل بینکوں سے مہنگے قرض لے رہی ہے جس سے حکومتی قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ،بزنس مین پینل پروگریسو ( بی ایم پی پی) کے جنرل سیکرٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے پاکستان کی مالیاتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی پر آنے والا بوجھ قومی معیشت کے لیے خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ٹیکس آمدن کا نصف سے زائد حصہ ہڑپ کر رہی ہیں۔ خرم اعجاز نے بجٹ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 8.054 کھرب روپے مختص کیے ہیں جن میں مقامی قرضوں پر 6.96 کھرب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر 1.07 کھرب روپے شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 15.26 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کا بڑا حصہ صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے گا۔ آخر معیشت کب تک ایسی نازک مالیاتی صورتحال کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے؟ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ قرضوں پر انحصار کرنے والی حکمت عملیوں پر نظرثانی کی جائے اور ملکی معاشی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سود کی رقم ہے جبکہ اصل قرضوں کے حجم کا اندازہ لگایا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اپریل 2026 تک مجموعی سرکاری قرضہ بڑھ کر 81.93 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو ایک سال قبل 74.94 کھرب روپے تھا۔ اس طرح صرف 12ماہ کے دوران قومی قرضوں میں تقریباً 7 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔حکومت کی جانب سے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے اندرونی قرضوں پر انحصار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمرشل بینک حکومتی سیکیورٹیز میں محفوظ منافع حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث سرمایہ پیداواری شعبوں تک منتقل نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود نہ صرف مالیاتی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی بھی کر رہی ہے نتیجتاً صنعتکار پیداواری سرگرمیوں کے بجائے اپنی رقوم بینکوں میں جمع کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں مانیٹری پالیسی کے تحت شرح سود کم ہو کر 10.5 فیصد تک آگئی تھی تاہم اب پالیسی ریٹ دوبارہ بڑھ کر 11.5 فیصد ہو گیا ہے جس سے مالیاتی گنجائش مزید محدود ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ شرح سود میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ صنعتی اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔خرم اعجاز نے آئی ایم ایف کی اُن پابندیوں کا بھی ذکر کیا جن کے تحت حکومت کے لیے اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض حاصل کرنا محدود ہو گیا ہے جس کے باعث مالیاتی ضروریات پوری کرنے کا بوجھ کمرشل بینکوں پر منتقل ہو گیا ہے اور حکومتی قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر حکومت اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض حاصل کر سکتی تو قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ایک حصہ منافع کی صورت میں دوبارہ قومی خزانے میں واپس آ سکتا تھا۔ انہوں نے
