کراچی (نیوز لیب رپورٹ ) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایم کیو ایم نہیں تھی اس لئے وہاں ترقی ہوئی ، اس صوبے میں جو سندھی مہاجر تفریق ہے اس کو ختم کرنا ہماری ذمے داری ہے۔ لوگوں کے دلوں میں نفرتیں ڈالی گئیں۔ جب تک نفرتیں خونریزی اور لسانیت نہیں تھی کراچی سب سے بہتر تھا۔ لاہور میں ایم کیو ایم کے بعد اس شہر میں ترقی کر بریک لگائی گئی ہے،جن لوگوں نے اس شہر کو اجاڑا تھا ان کا حساب ہو چکا ہے۔ ان کو آج اپنی حیثیت اور وزن کا پتہ ہے۔ کہا گیا کہ یونٹ انچارج کا نام لینے کی کسی کو ہمت نہیں تھی تو بھائی جس وقت ہمارے پاس سیکیورٹی گارڈ نہیں ہوتے تھے اس وقت بھی ہم جس قائد کو آپ نے چھوڑ دیا ہم اس کے سامنے تھے اور نام لے کر ان کے کرتوت سب کو بتاتے تھے، میرا یہ دعویٰ ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے لوگ آئندہ الیکشن میں سکڑ جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا،سعید غنی نے کہا کہ کوٹہ سسٹم شہری لوگوں کے حق میں ہے۔ اٹھارویں ترمیم بنتے وقت کمیٹی میں ایم کیو ایم شامل تھی۔ ایم کیو ایم سے فاروق ستار اور حیدر عباس نے اپنی پارٹی کو اس پر بات پر قائل کیا کہ کوٹہ سسٹم اردو بولنے والوں کے حق میں ہے ۔ آپ نے کوٹہ سسٹم کو مانا ہے۔ ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی واضح کردیں کہ آپ لوگ غیر مقامی کس کو کہتے ہیں۔ آپ اس نفرت کو ختم کریں۔ جو یہاں بستے ہیں ان کی آنے والی نسلوں کو بھی یہاں رہنا ہے،سندھ اس ملک کا پہلا صوبہ ہوگا جہاں مزدوروں کی کم سے کم اجرت 43000 یکم جولائی سے لاگو ہو جائے گی۔ محکمہ محنت میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں میں کرپشن کی خبریں چلانے والے صحافی اور اینکرز حقیقت سے نا آشنا ہیں۔آج دعویٰ کرتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اسوقت کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ پیپلز پارٹی کوئی قوم پرست جماعت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی ایک قومی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ سوشل ویلفئیر اور ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مزدوروں کا جو پیشہ آتا ہے اس پر انکم ٹیکس کی کٹوتی ہوتی تھی، جو ایک خاطر خواہ رقم بنتی تھی لیکن چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور نوید قمر کی مرہون منت ہم نے اس کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ کروا دیا ہے اور اس کا دائرہ دیگر صوبوں کے ان محکموں کو بھی ہوگا۔ سعید غنی نے کہا کہ سوشل سیکورٹی میں کنٹربیوشن کو آن لائن کرنے پر تنقید کی جاتی ہے لیکن حقائق سے بے خبر لوگوں کو بتا دوں کہ اس سے نہ صرف کنٹربیوشن میں بہتری آئی ہے اور اس سال ہم نے جو 13.5 بلین کا ٹارگٹ رکھا ہے اس کو پورا کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سیکورٹی کے زیر انتظام اسپتالوں میں ہر سال مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات کی فراہمی کا گراف بھی اوپر جارہا ہے اور گزشتہ دو سالوں کے مقابلے اس سال ہم ڈیڑھ لاکھ زائد یعنی 25 لاکھ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کی ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ اسی طرح محکمہ سیسی کے کمشنر نے 24 مارچ 2026 میں اکائونٹ جنرل سندھ اے کی سندھ کو ایک خط لکھ کر اپنے ملازمین کی ایک فہرست دی کہ ہمیں بتایا جائے کہ ان ملازمین میں سے کتنے ڈبل سرکاری ملازمین ہیں ۔ 30 مارچ 2026 کو اے جی سندھ سے جواب ملا کہ 71 ملازمین کے ریکارڈ میں ڈبل سرکاری ملازمین کا آیا ہے۔ یکم اپریل 2026 کو کمشنر سیسی نے مجھے یہ رپورٹ بھیجی اور میں نے اسی روز ان کو ہدایات دی کہ نے کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور جب کارروائی کی گئی تو ان میں سے 40 ملازمین ان میں سے کسی دوسرے محکمہ سے ڈیپوٹیشن پر ثابت ہوئے اور ان کی ان کے اصل محکمہ سے تنخواہیں پہلے ہی بند تھی باقی ماندہ 31 ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی اور 15 اپریل 2026 کو ان کی رپورٹ طلب کی۔ اس کے بعد 22 اپریل 2026 کو اس تمام کارروائی کے بعد ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ سیسی میں ڈبل تنخواہیں لینے والے ملازمین موجود ہیں جبکہ یہ کارروائی ایک ماہ قبل خود سیسی نے اے جی سندھ کو لکھا تھا۔ اس خبر پر وزیر اعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سی ایم آئی ٹی کو تحقیقات کی ہدایات دی اور ایک روز میں ہی اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کردی۔ ہم نے نہ صرف ان 31 ملازمین۔ کے خلاف کارروائی کرکے ملازمتوں سے برخاست کیا بلکہ ان سے ریکوری بھی کررہے ہیں ۔اپنی وزارت میں 20 ارب روپے کی کرپشن پر وضاحت دیتے ہوئےسعید غنی نے کہا کہ میں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں کرپشن ہوئی ہے، ذمے دار افسر کو ہٹایا گیا اور دوسرے سنیئر افسران کو چارج دیا اور ان کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی۔ اس دوران 8 مقدمات ہوئے اور 1 کے علاؤہ تمام میں ان لوگوں کو جنہیں کرپشن کے الزام میں ہٹایا گیا ان کو معزز عدلیہ نے اسٹے آرڈر دے دیا اور ہمیں کسی ایک کسی کا بھی نوٹس نہیں دیا گیا ساتھ ہی جو تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی اس کو بھی معزز عدلیہ نے کام کرنے سے روک دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ کرپشن میری وزارت کا چارج لینے سے پہلے کی تھی اور ہمارے ایک رکن قومی اسمبلی آغا رفیق اور ایک ایم پی اے نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ کو اس وقت خط بھی لکھا تھا میری جس تقریر کو جواز بنا کر کچھ معزز ممبران یہاں باتیں کررہے ہیں انہوں نے شاید پوری تقریر نہیں سنی کہ میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے لیکن عدلیہ کے اسٹے آجائیں تو کیا کریں۔ عدلیہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کی گورننگ باڈی کو بھی عدلیہ معطل کردیا
