کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کے خاتمے سے انڈیا میں مقیم بنگالی عتاب کا شکار ،بھارت نے 5,000 بنگلہ دیشیوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کر دیا ہے ، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات 2024 کے انقلاب کے بعد کشیدہ ہیں ، اس کی وجہ ڈھاکا میں اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ کیونکہ شیخ حسینہ نئی دہلی کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اور بنگلہ دیشن میں حوحکومت کے خاتمے کے بعد بھارت میں پناہ حاصل کر چکی ہیں ،عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کی گزشتہ ماہ مغربی بنگال میں بھاری انتخابی کامیابی کے بعد بھارت تقریباً 5,000 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔مودی کی جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نے مشرقی سرحدی ریاست مغربی بنگال میں، جس کی آبادی 10 کروڑ سے زائد ہے، انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی تارکینِ وطن کو “شناخت کرنے، فہرست سے نکالنے اور ملک بدر کرنے” کا وعدہ کیا تھا۔بھارت کی مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے ساتھ ایک طویل اور نسبتاً غیر محفوظ سرحد ہے، جہاں سے ہجرت کی وجوہات میں معاشی مشکلات اور خاندانی روابط تاریخی طور پر اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اقتدار سنبھالنے کے بعد نئی مغربی بنگال حکومت نے غیر دستاویزی بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا۔ روہنگیا ایک مسلم اکثریتی گروہ ہے جو میانمار میں ظلم و ستم کے باعث وہاں سے فرار ہوا تھا۔ریاست کے وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اتوار کے روز کولکتہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 5,000 بنگلہ دیشی شہریوں کو سرحد پار واپس بھیجا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا، “ہم نے ان بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک بدر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے دائرۂ کار میں نہیں آتے۔”ادھیکاری کے مطابق حکومت نے مئی میں ریاست کے تمام اضلاع میں حراستی مراکز قائم کیے تھے۔، “ان مراکز سے اب تک 4,800 بنگلہ دیشی دراندازوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔”ان کے مطابق مزید 836 افراد اس وقت حراستی مراکز میں موجود ہیں اور انہیں بھی جلد ملک بدر کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔یہ ملک بدری مہم سرحدی ریاست میں امیگریشن کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں شروع کی گئی ہے۔بھارت کے بعض اعلیٰ حکام تارکینِ وطن کو “دیمک” اور “درانداز” قرار دیتے رہے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی بیان بازی اور پالیسیوں نے بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی مذہبی شناخت کو غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے قبل بھارت پر یہ الزام بھی عائد کر چکی ہیں کہ وہ مناسب قانونی کارروائی کے بغیر سیکڑوں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیش دھکیل چکا ہے۔بھارت اور مسلم اکثریتی بنگلہ دیش کے تعلقات 2024 کے انقلاب کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے،
