کراچی(نیوزلیب رپورٹ ) سندھ حکومت نے محکمہ صحت کی جانب سے صوبے کے بنیادی مراکز صحت ( پی ایچ سی ) کے انتظامی امور، ادویات، طبی آلات اور دیگر سرکاری اثاثے ایک این جی او ، پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو(پی پی ایچ آئی) سندھ کے حوالے کر دیئے ہیں ، محکمہ صحت سندھ کی جانب سے 30 جون 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت صوبے بھر کے بنیادی مراکز صحت کے انتظامی اختیارات، قابلِ استعمال اور غیر قابلِ استعمال سامان سمیت مکمل انوینٹری فوری طور پر پی پی ایچ آئی سندھ کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے)سینٹر نے حکومت سندھ کے اس فیصلے پر گہری تشویش اور شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔پی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صحت کا عوامی نظام ایک ایسے ادارے کے سپرد کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی متعدد سرکاری طبی مراکز چلا رہا ہے، تاہم اس کی کارکردگی کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ پی ایم اے نے استفسار کیا کہ اگر پی پی ایچ آئی کی کارکردگی واقعی موثرہے تو حکومت اس کی کامیابیوں اور صحت کے شعبے میں بہتری کے قابلِ تصدیق شواہد عوام کے سامنے پیش کرے۔بیان میں کہا گیا کہ پی پی ایچ آئی گزشتہ دو دہائیوں سے سندھ میں خدمات انجام دے رہی ہے، اس لیے اس کے دائرہ کار میں مزید توسیع سے قبل اس کے موجودہ انتظامی اور طبی نظام کا غیر جانبدارانہ اور جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔پی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا کہ پہلے ہی مشکلات کا شکار صحت کے نظام کو غیر طبی منتظمین کے سپرد کرنے سے پیشہ ورانہ نگرانی، طبی ترجیحات اور صحت کی خدمات کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ عوامی صحت کا بنیادی ڈھانچہ ٹیکس دہندگان کے وسائل سے قائم کیا گیا ہے، اس لیے سرکاری اثاثوں، طبی آلات، ادویات اور ان کی خریداری کے نظام کو کسی بیرونی ادارے کے حوالے کرنے سے قبل اس ادارے کی کارکردگی اور مالی معاملات کا شفاف آڈٹ عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔پی ایم اے نے یہ بھی کہا کہ پی پی ایچ آئی کو بالخصوص سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین طبی عملے کے لیے غیر محفوظ اور نامناسب دفتری ماحول سے متعلق الزامات کا سامنا رہا ہے۔ بیان میں تھرپارکر میں ایک خاتون ہیلتھ ورکر کی خودکشی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے سے ادارے کے انتظامی ماحول اور ملازمین کو درپیش مسائل کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بیان کے مطابق انتظامی اختیارات کی اچانک منتقلی سے سرکاری ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کے سروس اسٹرکچر، ملازمت کے تحفظ اور پیشہ ورانہ وقار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔پی ایم اے نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کو اپنے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامی نظام کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں مسلسل بیرونی اداروں کے سپرد کرے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نےکہاکہ بنیادی صحت کی سہولیات صحت کے نظام کی بنیاد ہیں اور ان سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل طبی ماہرین، نمائندہ تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ایسوسی ایشن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن پر فوری عمل درآمد روکا جائے، پی پی ایچ آئی کے موجودہ نیٹ ورک کی جامع اور شفاف کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے، اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا یہ ماڈل مریضوں کے علاج، زچہ و بچہ کی صحت، خواتین طبی عملے کے لیے محفوظ ماحول اور ادویات کی فراہمی جیسے شعبوں میں مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب رہا ہے یا نہیں،
