کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کا محکمے کےکرپٹ مافیا کے خلاف ایک اوربڑا تاریخی آپریشن ،گندم ذخائر میں خورد برد پر 5 افسران و اہلکار ملازمت سے برطرف، 2 ارب 65 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد کی بھاری ریکوری کابھی حکم،تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کی ہدایت پر محکمہ خوراک سندھ میں کرپشن اور گندم کے ذخائر میں بڑے پیمانے پر خورد برد کے خلاف ایک تاریخی آپریشن کیا گیا۔گندم ذخائر میں خورد برد کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر 5 اعلی افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان سے 2 ارب 65 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد کی بھاری ریکوری کا حکم دے دیا گیا ہے۔وزیر خوراک کی ہدایت پر ان تمام برطرف افسران کے کیسز اینٹی کرپشن سندھ کو بھجوا دیے گئے ہیں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے پر ان کے خلاف سول سوٹ دائر کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق کندھ کوٹ کے فوڈ انسپکٹر بلخ شیر کو 9913 میٹرک ٹن گندم خورد برد کرنے پر برطرف کر کے ان سے 78 کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح شہید بینظیر آباد کے فوڈ سپروائزر دیدار حسین مگسی کو گندم کی جعلی ڈسپیچ پر ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے اور ان سے ایک ارب 19 کروڑ روپے کی سب سے بھاری ریکوری مقرر کی گئی ہے۔دادو کے فوڈ سپروائزر علی اصغر پہنور کو 2837 میٹرک ٹن گندم خورد برد کرنے پر برطرف کر کے ان سے 38 کروڑ 22 لاکھ روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے کا حکم دیا گیا۔حیدرآباد کے فوڈ انسپکٹر محمد علی مگسی کو گندم میں ملاوٹ اور خورد برد پر برطرف کر کے 20 کروڑ 83 لاکھ روپے ریکوری کا سامنا کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ بدین کے فوڈ سپروائزر حبیب اللہ ابڑو کو گوداموں میں گندم کی قلت کے معاملے پر ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ان سے 8 کروڑ 79 لاکھ روپے کی ریکوری طے کی گئی ہے۔وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خورد برد اور گندم کی جعلی ڈسپیچ میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے۔عوام کے نوالے پر ڈاکا ڈالنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی اور محکمے میں کرپشن کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
