کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی سنگین صورتحال، موٹر سائیکل کی چوری و چھینا جھپٹی اسٹریٹ کرائم میں سر فہرست ،رواں سال کے 7 ماہ جنوری سے جولائی کے عرصے میں کراچی سے روزانہ اوسطاً 104 موٹر سائکل یا تو چوری ہوتی ہیں یا چھین لی گئیں ہیں ،ایک محتاظ اندازے کے مطابق 7 ماہ میں چوری یا چھینی گئی موٹر سائیکلوںکی مالیت ایک ارب 10 کروڑ سے زیادہ ہے ،موٹر سائیکل کے بعد دوسرے نمبر پر اسٹریٹ کرائم میں موبائل فون چھیننے کی وار داتیں رجسٹرڈ ہو ئیں ہیں اور ان کی تعداد 53 فون روزانہ ہے ،اور ان کی مالیت کا اندازہ 55 سے 60 کروڑ روپے کے درمیان ہے ، ،یہ اعداد و شمار سی پی ایل سی کے مرتب کردہ ہیں اور سی پی ایل سی کے ایک ممبر کے مطابق شہریوں کی 60 سے 70 فیصد تعداد موبائل فون چھیننے کی رپورٹ درج نہیں کراتی ،اس وجہ سے موبائل چھیننے کی وارداتیں کم رجسٹرڈ ہو تی ہیں ، سی پی ایل سی کے مطابق رواں سال اسٹریٹ کرائم کے واقعات کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے اب تک 48 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، یعنی ہر ماہ 7 افراد جو کہ گھر سے دفتر ،اسکول یا کسی کام سے نکلے تھے ،وہ گھر نہیں پہنچے ، سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 7 ماہ میں اس کے ساتھ کراچی 312 قتل کے واقعات اور 98 بھتہ خوری کے مقدمات بھی رپورٹ ہوئے ، ۔اسی عرصے کے دوران968 گاڑیاں بھی چھینی گئیں یا چوری ہوئیں ،ان گاڑیوں کی قیمت بھی اگر محتاط اندازے کے مطابق بھی لگائی جائے تو 3 ارب روپے سے زیادہ کی ہے ،سی پی سی ایل کے مطابق جنوری سے جولائی تک شہر میں اسٹریٹ کرائم کی 34000 وارداتیں ہوئیں یعنی 162 روزانہ ،ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی جرائم پیشہ افراد کے لئے اربوں روپے کی انڈسٹری ہے
