کراچی ( نیوز لیب رپورٹ) آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ملک بھر کی کاروباری برادری کراچی کی سڑکوں کے لئے اربوں روپے ٹیکس دیتی ہے ، لیکن اس کے باوجود پورٹ سٹی کا انفراسٹرکچر تباہ حال ہے ،تاجر یا صنعت کار چاہے کراچی ، حیدرآباد ،سکھر کا ہو یا فیصل آباد ،لاہور ،اسلام آباد،پشاور اور کوئٹہ کا ،اگر وہ امپورٹ یا ایکسپورٹ کرتا ہے توکراچی کے انفراسٹرکچرکے لئے اربوں روپے کا ٹیکس دیتا ہے ، لیکن اس ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود شہر قائد کےناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے ملک بھر کی کاروباری برادری اضافی لاگت برداشت کرتی ہے ،یہ انکشاف ایف پی سی سی آئی برسر اقتدار گروپ بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل خرم اعجاز نے ایک انٹرویو میں کیا،انھوں نے کہا ہے کہ اگر سندھ حکومت انفراسٹرکچر سیس کے اربوں روپے کراچی کے انفراسٹرکچر پر لگا دے تو شہر کے تمام مسائل حل ہو جائیں ، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ کراچی ، پورٹ سٹی ہے اورملک میں معاشی حب کے نام سے جاناجاتا ہے ،ہماری 90 فیصد امپورٹ اور ایکسپورٹ کراچی سے ہی ہو تی ہے ،لیکن افسوس کے اس شہر کا انفرا سٹرکچر ایک دن کی بارش میں ہی بیٹھ گیا، پورٹ کے راستے، سڑکیں اور نکاسی آب کا نظام انتہائی خستہ حال ہونے سے بارش کی وجہ سے ہزاروں گاڑیاں گھنٹوں پھنس گئیں، ٹریفک جام نے پورے لاجسٹک چین کو مفلوج کردیا اور امپورٹرز، ایکسپورٹرز اور ٹرانسپورٹرز کو ڈیمرج ،لیٹ پے منٹ کی شکل میں بھاری مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔خرم اعجاز نے بتایا کہ ایف بی آر ڈیٹا کے مطابق سندھ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں 160 ارب روپے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں وصول کیے،5 سال میں یہ رقم 800 ارب روپے بن جاتی ہے ،سندھ ایکسائز کی جانب سے وصول کردہ اربوں روپے کا موٹر ٹیکس اور کے ایم سی کا میونسپل ٹیکس اس کے علاوہ ہے ،لیکن اس کے باوجود کراچی کا انفراسٹرکچر بارش کے ایک دن بھی نہیں سنبھال سکا۔خرم اعجاز نے کہا کہ یہ سیس سندھ حکومت کی کسی اضافی کاوش کے بغیر، کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے وصول کر تی ہے ،ملک کی تمام امپورٹ اور ایکسپورٹ پر 1.85 فیصد کی شرح سے یہ ٹیکس عائد ہے جو کہ کسٹمز جی ڈی کی فائلنگ کے وقت جمع کرنا لازم ہے ،کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ ہی یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو جاتی ہو جاتی یہ رقم چاہے عام دن ہو یا چھٹی کا دن، ہر روز سندھ حکومت کو خودبخود حاصل ہو جاتی ہے،اس پر سندھ حکومت کے وسائل بھی خرچ نہیں ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 160 ارب روپے کی اس وصولی کا مطلب ہے کہ:ماہانہ اوسط: تقریباً 13.33 ارب روپےروزانہ اوسط (365 دن کے حساب سے): تقریباً 43 کروڑ 80 لاکھ روپےروزانہ اوسط (کام کے دنوں کے حساب سے): تقریباً 53 کروڑ 30 لاکھ روپے“یعنی سندھ حکومت کو روزانہ تقریباً آدھا ارب روپے کی خطیر آمدنی ملتی ہے، بغیر کسی محنت یا اضافی کوشش کے، لیکن اس کے باوجود کراچی کا انفراسٹرکچر ایک دن کی بارش بھی برداشت نہیں کر پاتا،” خرم اعجاز نے کہا۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بارش نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ بندرگاہی راستے، سڑکیں اور نکاسی آب کا نظام انتہائی خستہ حال ہیں۔، ٹریفک جام نے پورے لاجسٹک چین کو مفلوج کردیا اور امپورٹرز، ایکسپورٹرز اور ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔خرم اعجاز نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ:انفراسٹرکچر سیس کی کل آمدنی میں سے ایک معقول اور مقررہ حصہ کراچی بندرگاہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں کی بہتری پر لازمی خرچ کیا جائے۔باقی رقم صوبے کے دیگر منصوبوں پر استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہو کہ یہ صرف انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر خرچ ہو۔ہر سال ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جائے جس میں یہ واضح ہو کہ کتنی وصولی ہوئی اور کن منصوبوں پر کتنی رقم خرچ کی گئی۔“کاروباری برادری حکومت سے کوئی رعایت یا استثنیٰ نہیں مانگ رہی۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو رقوم انفراسٹرکچر کے نام پر وصول کی جاتی ہیں، وہ حقیقت میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر ہی لگائی جائیں تاکہ پاکستان کی تجارت اور معیشت کو سہولت ملے،” انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں ان کے درست اور کرپشن سے پاک استعمال کی ضرورت ہے
