Skip to content
NewsLab

NewsLab

Primary Menu
  • پاکستان
  • سیاست
  • بزنس
    • ٹریڈ سیاست
    • ایف بی آر
  • خاص رپورٹس
  • دنیا
  • ٹیکنالوجی
  • شوبزنس
  • صحت
  • جرم و سزاء
  • عوامی رائے
  • رابطہ کریں
  • About us
  • Home
  • بزنس
  • ایف بی آر
  • پاکستان کسٹمز ، گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے،خرم اعجاز
  • ایف بی آر

پاکستان کسٹمز ، گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے،خرم اعجاز

S.D. جولائی 15, 2026
custom.logo

کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) ایف بی آر میں اصلاحات کے نام پر کسٹمز میں سیکٹرز پر مبنی گروپس ختم کرکے گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کا نظام نافذ کردیا گیا ہے اس نئے نظام کی کامیابی کے دعوے کرنے اور اس سسٹم سے بہترین نتائج کی توقعات باندھنےسے قبل اس کی کارگردی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لازم ہے ایف پی سی کی آئی کسٹمز ایڈوائزری کونسل کے مطابق پاکستان کسٹمز کے گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ اور سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کے خاتمے کا غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔ تاکہ یہ جانچنا جائے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس کا وقت بڑھا ہے یا کم ہوا ہے ،کسٹمز کے خلاف مقدمات میں کمی آئی ہے یا ان کی تعداد بڑھ گئی ہے ، فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کی ایڈوائزری کونسل برائے کسٹمز کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا کہ فیس لیس ایسسمنٹ پر اعتراض نہیں،اصل مقصد اصلاحات نہیں بلکہ نتائج ہیںخرم اعجاز نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ کارکردگی جائزے (آئی پی ای) کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اتنی بڑی اصلاحات کو صرف دعوؤں کے بجائے شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور عالمی معیار کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ ان کی تجویز کا مقصد فیس لیس اسیسمنٹ پر تنقید کرنا نہیں کیونکہ یہ شفافیت، دیانتداری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اصلاح ہے تاہم فیس لیس اسیسمنٹ کے ساتھ سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کا خاتمہ ایک بڑی ساختی تبدیلی ہے جس کے اثرات کا اب غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔ خرم اعجاز نے کہا کہ پاکستان نے مکمل طور پر گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل اپنایا جبکہ دنیا کی کئی معروف کسٹمز انتظامیہ نے مختلف طریقہ کار اختیار کیا۔ بھارت نے فیس لیس اسیسمنٹ متعارف کرانے کے بعد نیشنل اسیسمنٹ سینٹرز (این اے سیز) اور فیس لیس اسیسمنٹ گروپس (ایف اے جیز) قائم کر کے مخصوص گروپ کی بنیاد پر مہارت کو مزید مضبوط بنایا جبکہ امریکا، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور آج بھی تکنیکی طور پر پیچیدہ اسیسمنٹس کے لیے تاحال شعبہ وار مہارت پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی کسٹمز تنظیم (ڈبلیو سی او) مسلسل ٹیرف کی درجہ بندی، کسٹمز ویلیویشن اور رسک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارت پر زور دیتی ہے چونکہ بین الاقوامی تجارت تیزی سے ٹیکنالوجی پر منتقل ہورہی ہے اس لیے مشینری، کیمیکلز، ادویات اور الیکٹرانکس جیسے پیچیدہ شعبوں کی درست اسیسمنٹ کے لیے خصوصی مہارت رکھنے والے افسران ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کسٹمز اپنے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کا موازنہ بین الاقوامی بہترین طریقوں سے کرنے کے لیے عالمی بینک، ڈبلیو سی او یا ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جیسے کسی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ادارے کے تعاون سے ایک آزادانہ جائزے پر غور کرے۔اس جائزے میں یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے، تجارتی سہولت اور پیش گوئی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، ٹیرف کلاسیفکیشن اور کسٹمز ویلیوایشن میں یکسانیت پیدا ہوئی ہے، تنازعات اور مقدمات میں کمی آئی ہے، حکومتی ریونیو کا تحفظ بہتر ہوا ہے اور پیچیدہ مصنوعات کی اسیسمنٹ کے معیار میں واقعی بہتری آئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی بینک کے حالیہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن فریم ورک میں بھی کسٹمز کی کارکردگی کو کسٹمز پروسیسنگ ٹائم، کارگو ڈویل ٹائم اور بارڈر افیشنسی جیسے آپریشنل اشاریوں سے جانچا جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں نافذ کی گئی اصلاحات کے حقیقی نتائج کا بھی غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لیا جائے۔خرم اعجاز نے کہا کہ اگر آزادانہ جائزے سے یہ ثابت ہو جائے کہ موجودہ گروپ لیس ماڈل بہتر نتائج دے رہا ہے تو اسے مزید مستحکم کیا جانا چاہیے تاہم اگر بہتری کی گنجائش سامنے آئے تو پاکستان کسٹمز کو ایسا ہائبرڈ ماڈل اختیار کرنا چاہیے جس میں فیس لیس اسیسمنٹ کی شفافیت کے ساتھ شعبہ وار تکنیکی مہارت کو بھی برقرار رکھا جائے جیسا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔

Post navigation

Previous: ڈاکٹر آکاش قتل کیس ،ملزمان کا تعلق بھی ہندو کمیونٹی سے نکلا، گرفتار ملزمان میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔

Related News

fbr1
  • ایف بی آر
  • بزنس

کسٹمز آفیسرز نے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت کو قانونی نوٹس جاری کردیا،کرپشن کے الزامات پر عوامی معافی کا مطالبہ

S.D. مئی 20, 2026
fbr2
  • ایف بی آر
  • بزنس

کسٹمز کی ضبط کردہ گاڑیوں کی نئی پالیسی،وفاقی اور صوبائی اداروں کو فروخت کرنےکا فیصلہ

S.D. اپریل 3, 2026
fbr1
  • ایف بی آر
  • بزنس

تاجروں اور صنعت کاروں کے حق میں ایف ٹی اوظفر حجازی کا بولڈ فیصلہ

S.D. مارچ 11, 2026

تازہ ترین

  • پاکستان کسٹمز ، گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے،خرم اعجاز
  • ڈاکٹر آکاش قتل کیس ،ملزمان کا تعلق بھی ہندو کمیونٹی سے نکلا، گرفتار ملزمان میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔
  • غیر ملکی سرمایہ کار امن وامان کی صورتحال سے پریشان، سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ،اوور سیز انویسٹرز چیمبر کے اراکین نےکہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ، کراچی پولیس کی مثبت درجہ بندی کم اور اس کے برعکس سندھ رینجرز کی مثبت درجہ بندی بڑھ گئی
  • ریسکیو 1122 اہلکاروں کے لئےبڑی خبر،سندھ حکومت کا فلاحی پیکج
  • ہالی ووڈ اداکار عامر خان کی 61 سال میں تیسری شادی، دلہن گوری اسپراٹ کا تعلق فیشن انڈسٹری سے ہے

Categories

  • Uncategorized
  • ایف بی آر
  • بزنس
  • پاکستان
  • ٹریڈ سیاست
  • ٹیکنالوجی
  • جرم و سزاء
  • خاص رپورٹس
  • دنیا
  • سیاست
  • شوبزنس
  • صحت
  • عوامی رائے

You may have missed

custom.logo
  • ایف بی آر

پاکستان کسٹمز ، گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے،خرم اعجاز

S.D. جولائی 15, 2026
policeDIG2
  • جرم و سزاء

ڈاکٹر آکاش قتل کیس ،ملزمان کا تعلق بھی ہندو کمیونٹی سے نکلا، گرفتار ملزمان میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔

S.D. جولائی 15, 2026
oicci2
  • بزنس
  • پاکستان

غیر ملکی سرمایہ کار امن وامان کی صورتحال سے پریشان، سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ،اوور سیز انویسٹرز چیمبر کے اراکین نےکہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ، کراچی پولیس کی مثبت درجہ بندی کم اور اس کے برعکس سندھ رینجرز کی مثبت درجہ بندی بڑھ گئی

S.D. جولائی 8, 2026
1122
  • پاکستان
  • خاص رپورٹس

ریسکیو 1122 اہلکاروں کے لئےبڑی خبر،سندھ حکومت کا فلاحی پیکج

S.D. جولائی 7, 2026