کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) ایف بی آر میں اصلاحات کے نام پر کسٹمز میں سیکٹرز پر مبنی گروپس ختم کرکے گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کا نظام نافذ کردیا گیا ہے اس نئے نظام کی کامیابی کے دعوے کرنے اور اس سسٹم سے بہترین نتائج کی توقعات باندھنےسے قبل اس کی کارگردی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لازم ہے ایف پی سی کی آئی کسٹمز ایڈوائزری کونسل کے مطابق پاکستان کسٹمز کے گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل کے نفاذ اور سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کے خاتمے کا غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔ تاکہ یہ جانچنا جائے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس کا وقت بڑھا ہے یا کم ہوا ہے ،کسٹمز کے خلاف مقدمات میں کمی آئی ہے یا ان کی تعداد بڑھ گئی ہے ، فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کی ایڈوائزری کونسل برائے کسٹمز کے چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی خرم اعجاز نے کہا کہ فیس لیس ایسسمنٹ پر اعتراض نہیں،اصل مقصد اصلاحات نہیں بلکہ نتائج ہیںخرم اعجاز نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ کارکردگی جائزے (آئی پی ای) کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اتنی بڑی اصلاحات کو صرف دعوؤں کے بجائے شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور عالمی معیار کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ ان کی تجویز کا مقصد فیس لیس اسیسمنٹ پر تنقید کرنا نہیں کیونکہ یہ شفافیت، دیانتداری اور یکساں کسٹمز اسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اصلاح ہے تاہم فیس لیس اسیسمنٹ کے ساتھ سیکٹر پر مبنی خصوصی اسیسمنٹ گروپس کا خاتمہ ایک بڑی ساختی تبدیلی ہے جس کے اثرات کا اب غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہو چکا ہے۔ خرم اعجاز نے کہا کہ پاکستان نے مکمل طور پر گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل اپنایا جبکہ دنیا کی کئی معروف کسٹمز انتظامیہ نے مختلف طریقہ کار اختیار کیا۔ بھارت نے فیس لیس اسیسمنٹ متعارف کرانے کے بعد نیشنل اسیسمنٹ سینٹرز (این اے سیز) اور فیس لیس اسیسمنٹ گروپس (ایف اے جیز) قائم کر کے مخصوص گروپ کی بنیاد پر مہارت کو مزید مضبوط بنایا جبکہ امریکا، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور آج بھی تکنیکی طور پر پیچیدہ اسیسمنٹس کے لیے تاحال شعبہ وار مہارت پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی کسٹمز تنظیم (ڈبلیو سی او) مسلسل ٹیرف کی درجہ بندی، کسٹمز ویلیویشن اور رسک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارت پر زور دیتی ہے چونکہ بین الاقوامی تجارت تیزی سے ٹیکنالوجی پر منتقل ہورہی ہے اس لیے مشینری، کیمیکلز، ادویات اور الیکٹرانکس جیسے پیچیدہ شعبوں کی درست اسیسمنٹ کے لیے خصوصی مہارت رکھنے والے افسران ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کسٹمز اپنے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کا موازنہ بین الاقوامی بہترین طریقوں سے کرنے کے لیے عالمی بینک، ڈبلیو سی او یا ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جیسے کسی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ادارے کے تعاون سے ایک آزادانہ جائزے پر غور کرے۔اس جائزے میں یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا موجودہ نظام سے کسٹمز اسیسمنٹ اور کارگو کلیئرنس میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے، تجارتی سہولت اور پیش گوئی کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، ٹیرف کلاسیفکیشن اور کسٹمز ویلیوایشن میں یکسانیت پیدا ہوئی ہے، تنازعات اور مقدمات میں کمی آئی ہے، حکومتی ریونیو کا تحفظ بہتر ہوا ہے اور پیچیدہ مصنوعات کی اسیسمنٹ کے معیار میں واقعی بہتری آئی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی بینک کے حالیہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن فریم ورک میں بھی کسٹمز کی کارکردگی کو کسٹمز پروسیسنگ ٹائم، کارگو ڈویل ٹائم اور بارڈر افیشنسی جیسے آپریشنل اشاریوں سے جانچا جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں نافذ کی گئی اصلاحات کے حقیقی نتائج کا بھی غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لیا جائے۔خرم اعجاز نے کہا کہ اگر آزادانہ جائزے سے یہ ثابت ہو جائے کہ موجودہ گروپ لیس ماڈل بہتر نتائج دے رہا ہے تو اسے مزید مستحکم کیا جانا چاہیے تاہم اگر بہتری کی گنجائش سامنے آئے تو پاکستان کسٹمز کو ایسا ہائبرڈ ماڈل اختیار کرنا چاہیے جس میں فیس لیس اسیسمنٹ کی شفافیت کے ساتھ شعبہ وار تکنیکی مہارت کو بھی برقرار رکھا جائے جیسا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔
