کراچی (نیوز لیب رپورٹ ) کراچی میں درختوں کی کٹائی نے ماحولیاتی نظام کو تباہی کے دہا نے پر پہنچا دیا ہے، اس شہر میں 50 ہزار سے زائد درخت حالیہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کاٹ دیئے گئے ، شہر کا گرین بیلٹ( سبز احاطہ ) خطرناک حد تک کم ہو کر تقریبا دو فیصد رہ گیا ہے، ، جہاں مبینہ طور پر 50 ہزار سے زائد درخت مختلف ترقیاتی منصوبوں کی نذر ہو چکے ہیں، ان خیالات کا اظہارایف پی سی سی آئی کی سینٹرل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پائیدار ترقیاتی اہداف کے زیر اہتمام فیڈریشن ہائوس کراچی میں منعقد ہ ایک سیمینار میں کیا گیا ، موضوع تھا ،پاکستان کے گھٹتے جنگلات،سیمنار میں پاکستان کے تیزی سے ختم ہوتے ہوئے جنگلات اوردرختوں کی بے دریغ کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا،سیمینار کے اختتام پراتفاق رائے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے بڑے شہروں خصوصا کراچی اور اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی نے ماحولیاتی نظام کو تباہی کے دہا نے پر پہنچا دیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ماحولیاتی کارکن اور غیر سرکاری تنظیمیں ذمہ دار اداروں کے خلاف عدالتوں اور ماحولیاتی ٹربیو نلز سے رجوع کریں۔مقررین نے زور دیا کہ صرف ہوٹلوں میں تقاریب اور علامتی عالمی دن عالمی دن منانے سے اب کام نہیں چلے گا، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ درختوں اور جنگلات کے تحفظ کی آئینی و ا نتظامی ذمہ داری رکھنے والے اداروں کو مکمل جوابدہ بنانا ہوگا۔ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر محمد نعیم قریشی نے کہا کہ کراچی کا سبز احاطہ خطرناک حد تک کم ہو کر تقریبا دو فیصد رہ گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر 50 ہزار سے زائد درخت مختلف ترقیاتی منصوبوں کی نذر ہو چکے ہیں
۔ اسلام آباد میں بھی حالیہ مہینوں میں تقریبا 40,000 درختوں کی کٹائی کی اطلاعات نے تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں مجموعی جنگلات اور درختوں کا احاطہ صرف پا نچ فیصد سے کم ہو کر 3فیصد کے قریب رہ گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے کم از کم 25 فیصد جنگلات ضروری ہیں۔ا نہوں نے سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور سندھ ا نوائر مینٹل پروٹیکش ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ذمہ دار اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔ا نہوں نے وزیر بلدیات ناصر شاہ، میئر کراچی مرتضی وہاب اورکمشنر کراچی سے گزارش کی کہ وہ اس سلسلے کو روکیں اور درخت کاٹنے والوں کیخلاف قانونی کاروائی کریں۔ ا نہوں نے کہا کہ درختوں کے بچا کیلئے ایک ملک گیر مہم شروع کی جارہی ہے،دیگر ماہرین نے کہا کہ 1992 سے اب تک پاکستان کے جنگلات میں 18 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈ نگ، اربن فلڈ نگ، اچا نک سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطر ناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان ہر سال 11,000 ہیکٹر سے زائد جنگلاتی رقبہ کھو رہا ہے۔ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات کا تنازع ماحولیاتی تباہی کا جواز ہیں اور تمام اداروں کو مل کر فوری اقدامات کر نے ہوں گے۔ درختوں کی ا ندھا دھن کٹائی کو معمولی جرم نہیں ہیں بلکہ ماحولیاتی دہشت گردی سمجھا جانا چاہئے ، کیوں کہ اس کے اثرات ا نسانی صحت، حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی مزاحمت اور شہری بقا پر ا نتہائی تباہ کن ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں درختوں کے حوالے سے جامع سائنسی ڈیٹا موجود نہیں، لیکن تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ فوری اور ہنگامی اقدامات ضروری ہیں، میڈیا اکثر ماحولیاتی تباہی کو اجاگر کرتا ہے لیکن ماحولیاتی تنظیمیں اس کو قانونی کارروائی میں تبدیل نہیں کرتیں۔مقررین نےمصنوعی ذہا نت اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کی نگرا نی کی تجویز اور سنگل یوز پلاسٹک بیگز پر سخت پابندی پر بھی زور دیا
