کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) پاکستان میں ڈالر کی ذخیرہ اندوزی سے مسافروں اور طلبا کو ڈالر کے حصول میں مشکلات کا سامنا اوپن مارکیٹ میں ڈالر دستیاب نہیں ،کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سےکرنسی کے تبادلے سے متعلق نئے ایس او پیز سے مارکیٹ میں ڈالر کی قلت پیدا ہو گئی، ڈیلرز کے مطابق گذشتہ ماہ نومبر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس کے تحت ڈالر خریدنے والے صارفین کو چیک جاری کرنا لازم قرار دیا گیا ہے، اس سے پہلے ایس بی پی ڈالر کی خریداری کے لئے بایومیٹرک تصدیق اور اصل شناختی کارڈ (CNIC) کی شرط پہلے ہی نافذ کر چکا ہے ،اب اس نئی صورتحال میں کرنسی ایکسچینج کمپنیاں صرف وہی ڈالر فروخت کر رہی ہیں جو وہ خود خرید پاتی ہیں،بیشتر کرنسی ڈیلرز ڈالرز کی فروخت نہیں کر رہے یا پھر انھوں نے 100 سے 200 ڈالر تک کا کوٹہ مقرر کر دیا ہے اس صورتحال سے بیرون ملک جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے ،بیشتر مسافر ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیاں خرید رہے ہیں یا پھر بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں ڈالر خریدنےپر مجبور ہیں ،یہ بھی بتایا جا رہا ہے ڈالر کی قلت کے باعث کرپٹو کرنسی کی غیر قانونی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ،کاروباری برادری اور ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ ڈالر کی مصنوعی قلت سے آنے والے دنوں میں بحران کی شکل اختیار کرلے گی،اس لئے حکام کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے
