کراچی ( نیوزلیب رپورٹ ) حکومت نےبجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملکی فنانسنگ پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے ، بینکوں سے قرضو کے حصول میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال کے 9 ماہ میں کمرشل بینکوں کے قرضے 2.90 ٹریلین تک پہنچ گئے ہیں ،بزنس مین پینل پروگریسو(بی ایم پی پی) کے جنرل سیکرٹری اور فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے وفاقی حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے تیزی سے بڑھتے ہوئے قرضوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی مزید محدود ہو جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 9 ماہ میں حکومتی قرضے کمرشل بینکوں سے 61 فیصد بڑھ گئے۔ جولائی تا مارچ کے دوران قرضے بڑھ کر 2.90 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.80 ٹریلین روپے تھے۔ مارکیٹ ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈزکے ذریعے بڑھتا ہوا انحصار بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے خرم اعجاز نے اس دوران مرکزی بینک کو 2.14 ٹریلین روپے کی بڑی ادائیگی کا بھی ذکر کیا جو فِسکل ریسپانسبلٹی اور ڈیٹ لیمیٹیشن فریم ورک کے مطابق ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس تبدیلی نے کمرشل بینکوں پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے اور کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کی گنجائش محدود کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت کمرشل بینکوں کے وسائل بڑی مقدار میں استعمال کرتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر نجی شعبے پر پڑتا ہے۔ صنعتوں کو توسیع، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سستے اور قابل رسائی قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ رجحان معاشی نمو کے لیے تشویش کا باعث ہے۔پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی (22 فیصد سے 10.50 فیصد) کے باوجود نجی شعبے کے قرضوں میں صرف معمولی اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ سال کے 778 ارب روپے سے بڑھ کر 833 ارب روپے ہے۔ یہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ حکومتی قرضوں کے زیادہ دباؤ نے ساختی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کراؤڈنگ آؤٹ جاری رہا تو اس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں اور پاکستان کی مجموعی معاشی بحالی سست پڑ سکتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ آمدنی بڑھانے، خسارہ کم کرنے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینے والی پالیسیاں اپنائے کیونکہ بینک قرضوں پر طویل مدتی انحصار نہ پائیدار ہے اور نہ ہی معیشت کے لیے سودمند ہے۔خرم اعجاز نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ متوازن مالی اقدامات اختیار کریں جو کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دیں اور قرضوں کے بہاؤ کو معیشت کے پیداواری شعبوں کی طرف یقینی بنائیں۔
