کراچی (نیوز لیب رپورٹ) اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)کے اراکین نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اہم کاروباری مراکز میں سیکیوریٹی کی صورتحال میں قابلِ ذکر بہتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بلوچستان میں سنگین جرائم کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے، بلوچستان جیسے علاقوں میں سیکیوریٹی کی نازک صورتحال پاکستان کے عالمی امیج اور طویل المدّتی سرمایہ کاری کے اعتماد کو متاثر کررہی ہے،پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے کاروباری دوروں کی تعداد 2024کے برابر ہی رہی ہے ،تاہم بیرون ممالک میں ہونے والی میٹنگز میں کمی پاکستان کی داخلی سلامتی کے ماحول کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہے،تفصیلات کے مطابق اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)نے اپنے سیکیوریٹی سروے 2025کے نتائج کا اعلان کردیاہے،اس تازہ ترین سروے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے کراچی، لاہور اوراسلام آباد میں سنگین جرائم اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی کا اعتراف کیا ہے ، سروے پاکستان بھر میں کام کرنے والی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تاثرات کی عکاسی ہے۔ جون 2024سے مئی 2025تک کے عرصے پر محیط سروے کے نتائج کے مطابق ملک کے بڑے شہروں خاص طورپر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اہم کاروباری مراکز میں سیکیوریٹی کی صورتحال میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے۔ سروے کے مطابق70فیصد سے زائد شرکاء نے کراچی، لاہوراور پنجاب بھرمیں سنگین جرائم میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے جبکہ کراچی، لاہوراور اسلام آباد میں اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ سروے کے 2تہائی شرکاء نے ملازمین کوخاص طورپر مذکورہ بڑے شہروں میں روز مرہ آمدو رفت کے دوران ذاتی تحفظ میں بہتری کی رپورٹ دی ہے۔ تاہم سروے کے نتائج اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ بعض حساس علاقوں میں سیکیوریٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ اگرچہ کوئٹہ اور پشاور میں اسٹریٹ کرائمز میں جزوی کمی ہوئی ہے لیکن ان شہروں کواب بھی ذاتی تحفظ کیلئے سب سے کم محفوظ سمجھا جاتاہے۔ سروے میں سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بلوچستان میں سنگین جرائم کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے جو ملک کے دوسرے حصوں میں بہتری کے رجحان کو متاثر کررہی ہے۔ سیکیوریٹی کی صورتحال کا یہ فرق ان خدشات کو تقویت دیتاہے کہ اگرچہ ملک کے بڑے شہروں میں سیکیوریٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن ملک کے بعض حصوں بلوچستان جیسے علاقوں میں سیکیوریٹی کی نازک صورتحال پاکستان کے عالمی امیج اور طویل المدّتی سرمایہ کاری کے اعتماد کو متاثر کررہی ہے۔ سروے کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہم شہری مراکز میں سیکیوریٹی کی صورتحال میں واضح بہتری کے باوجود چیف ایگزیکٹوز کیلئے سیکیوریٹی اب بھی 3بڑے خدشات میں شامل ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کاروباری اعتماد کو برقرار کھنے کیلئے جامع اور مسلسل بہتری ناگزیر ہے۔ سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنر ل ایم عبدالعلیم نے کہاکہ اوآئی سی سی آئی سیکیوریٹی سروے 2025 ایک محتاط پُرامید کی عکاسی ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں واضح بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کیلئے خوش آئندہے۔ تاہم اس بہتری کو برقراررکھنا اور ملک بھر میں اسی طرح بہتری لانا ضروری ہے تاکہ ملک میں سیکیوریٹی کی بہتر صورتحال کو برقرار رکھا جاسکے اور پاکستان کی مجموعی سلامتی کے بارے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہتری کایقین دلایاجاسکے۔ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کے کاروباری دوروں کی تعداد 2024کے سروے کے برابررہی جبکہ بیرون ممالک میں ہونے والی میٹنگز میں کمی پاکستان کی داخلی سلامتی کے ماحول کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہے۔ کچھ کاروباری میٹنگز ملتوی بھی ہوئیں جن کی بنیادی وجہ داخلی سیکیوریٹی صورتحال کے بجائے جغرافیائی سیاسی کشیدگی خاص طورپر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی تھی۔ او آئی سی سی آئی نے پاکستان میں مزید محفوظ اور فعال کاروباری ماحول کو فروغ دینے کیلئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کے اپنے عزم کا اعادہ کیاہے۔
