کراچی (نیوزلیب رپورٹ) موبائل فون صارفین ہو جائیں ہو شیار ،کال فارورڈنگ اسکیم کے نام سے نیا فراڈ سامنے آگیا ہے ، مفت سم کے ذریعے بھی فراڈ کا انکشاف، صارفین مفت کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگزایکسپوز نہ کریں،پی ٹی اے ماہرین نے موبائل صارفین کے لئے الرٹ جاری کر دیا ہے ،اس الرٹ میں ماہرین نے موبائل فون صارفین کو ایک نئے اور خطرناک سائبر فراڈ کے حوالے سے خبردار کیا ہے، نئے فراڈ میں ہیکرز ایک مخصوص کوڈ کے ذریعے صارفین کی کالز اور حساس مالی معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ فراڈ کال فارورڈنگ اسکیم کے نام سے سامنے آیا ہے، جس میں صارفین کو بغیر کسی ایپ یا او ٹی پی شیئر کیے نشانہ بنایا جاتا ہے۔دھوکہ دہی میں ملوث افراد خود کو بینک نمائندہ، کسٹمر سروس یا ڈیلیوری ایجنٹ ظاہر کر کے صارفین کو فون کرتے ہیں اور کسی تکنیکی مسئلے کا بہانہ بنا کر انہیں ایک مخصوص کوڈ ڈائل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، جیسے 21# یا 401#۔ صارف کی لاعلمی میں یہ عمل کال فارورڈنگ کو فعال کر دیتا ہے۔اس کے بعد متاثرہ شخص کی آنے والی کالز، پیغامات اور حتی کہ او ٹی پی بھی کسی اور نمبر پر منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے ہیکرز کو صارف کے بینک اکائونٹس اور دیگر حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس طریقے سے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکائونٹس بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔ اس فراڈ کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر خاموشی سے ہوتا ہے اور صارف کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک وہ بھاری نقصان اٹھا چکا ہو تا ہے جائے۔،ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فون کی کال فارورڈنگ اسٹیٹس چیک کریں، جس کے لیے #21# یا #62# ڈائل کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی غیر معروف نمبر ظاہر ہو تو فوری طور پر اسے بند کر دیا جائے۔ماہرین نے سختی سے تاکید کی ہے کہ کسی بھی نامعلوم کال پر کوئی کوڈ ڈائل نہ کیا جائے اور نہ ہی او ٹی پی یا پن کسی کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ معمولی سی لاپرواہی بھی بڑے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط ہی بہترین تحفظ ہے،
دوسری جانب پی ٹی اے حکام نے بھی صارفین کو جعلی سمز کے اجرا سے بچنے کیلئے ہدایت نامہ جاری کردیا ہے ،پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ نئی سم ہمیشہ موبائل فون کمپنی کے کسٹمر سروس سینٹر یا فرنچائز سے ہی تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد خریدیں،پی ٹی اے کے مطابق انھیں اطلاعات ملی ہیں کہ مفت موبائل فون سم کی آڑ میں جعلی سمز کارڈز کا دھندہ کیا جا رہا ہے ، جعل ساز مفت سم کے نام پر صارف کو ایک سم جاری کرتے ہیں لیکن اس کی بائیو میٹرک تصدیق پر ایک سے 2 اضافی سم بھی جاری کرا لی جاتی ہے اور پھر ان سم کے ذریعے فراڈ کیا جاتا ہے ،ایسے فراڈ کی اطلاع پر اگرحکومتی ادارہ کاروائی کرتا ہے تو بے گناہ صارفین پھنس جاتے ہیں ،پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردارکردیا،دھوکہ دہی سے صارف کی لاعلمی میں اس کے نام پردوسری سم بھی جاری ہو سکتی ہے،آپ کے نام پر جاری سم غیرقانونی استعمال میں آئے تو قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔پی ٹی اے نے ہدایت دی کہ نئی سم ہمیشہ موبائل فون کمپنی کے کسٹمر سروس سینٹر یا فرنچائز سے ہی تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد خریدیں،یقینی بنائیں کہ آپ کی اجازت کے بغیر کوئی سم آپ کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ نہ ہو۔پی ٹی اے نے کہا ہے کہ شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ اضافی اور غیر استعمال شدہ سمز کو فوری طور پر بلاک کرائیں
