کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سر پرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے بھی خواتین اور ڈسٹرکٹ چیمبرز کے خاتمے کی کوششوں کے خلاف آواز بلند کر دی،تفصیلات کے مطابق چند روز قبل یو بی جی سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے ڈسٹرکٹ کی سطح پر چیمبرز کے خاتمےکے خلاف فیڈریشن ہاوس میں ایک پریس کانفرنس رکھی تھی جسے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام نے منسوخ کرا دیا تھا ،تاہم آصف سخی نے اس مسئلے پر اپنا احتجاج جاری رکھا،ایف پی سی سی آئی میں پریس کانفرنس کی منسوخی پر انھوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانرنس کر کے اس مسئلے پر آواز اٹھائی، ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان بھر کے تمام ڈسٹرکٹ چیمبرز کو ختم کرنے جارہی ہے اس مقصد کے لئے ٹریڈ ایکٹ 2013 میں ترمیم کی جارہی ہے ،یہ ترمیم کراچی چیمبر کے برسر اقتدار گروپ کی خواہش پر حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے پیش کی ہے ،وہ ایم کیو ایم جو کہ ایک جانب کراچی میں اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہے لیکن دوسری جانب ایک ٹولے کے مفادات کے تحفظ کے لئے چیمبرز کی ضلعی سطح پر تشکیل کے خلاف کھڑی ہے ،آصف سخی کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے ملک بھر میں موجود 80 سے زائد ڈسٹرکٹ چیمبرز اور 30 سے زائد خواتین چیمبرز ختم ہوجائینگے،ذرائع کے مطابق آصف سخی کی کوششوں سے یو بی جی کے سرپرست ایس ایم تنویر نے مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس بل کے خلاف آواز بلند کر دی ہے اپنے ایک بیان میںایس ایم تنویر نے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں ترمیم کے بل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ملک بھر کی کئی نمائندہ تنظیموں کی بندش کا سبب بن سکتی ہے، ایس ایم تنویر نے کہا کہ اس اقدام سے ملک بھر کی تاجر برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ کاروباری ماحول پہلے ہی اندرونی اور بیرونی رکاوٹوں اور دباؤ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری تاجر برادری کی آخری پناہ گاہ ہیں جہاں وہ اپنے مسائل اور اجتماعی مفاد کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں،انھیں خدشہ ہے کہ اگر تجارتی تنظیموں کو صرف شہر کی حدود تک محدود کر دیا گیا، تو اس سے انڈسٹریل اسٹیٹس، تحصیلوں میں قائم چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے کلسٹرز اور دیہی علاقوں کے برآمدی کاروبار اپنی درست نمائندگی سے محروم ہو جائیں گے،یہ ترمیم ضلعی معیشت کی تباہی کا سبب بنے گی ان رولز میں تبدیلی سے خواتین تاجروں اور چھوٹی صنعتوںکی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں بری طرح متاثر ہوں گی۔ اس قانون سے ضلعی سطح کے چیمبرز ختم ہو جائیں گے، جس سے برسوں میں بنا ہوا ادارہ جاتی ڈھانچہ تباہ ہو جائے گا،ایس ایم تنویر نے قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو مسترد کر دیں تاکہ ضلعی چیمبرز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر اپنا کام جاری رکھ سکیں،گروپ لیڈر کی جانب سے مجوزہ ترمیم کے خلاف آواز اٹھانے پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام نے بھی یو ٹرن لیتے ہوئے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں ترمیم پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013ترمیمی بل پر شدید تحفظات ہیں ، اس اقدام نے ملک بھر کی تاجر برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، اندرونی و بیرونی تجارتی رکاوٹوں اور دباو کی وجہ سے کاروباری ماحول پہلے ہی متزلزل ہے، انھوں نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی ضلعی سطح کے چیمبرز ، ادارہ جاتی ڈھانچے کو ختم ، ضلعی معیشتوں کو تباہ کردیگی، ٹریڈ آرگنائزیشن رولز 2013میں ترمیم سے بزنس کمیونٹی کی حوصلہ شکنی اور مایوسی ہوگی، ترمیم سے خواتین اور ایس ایم ایز کی نمائندگی کرنے والے تجارتی اداروں پر شدید اثرات پڑیں گے، عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پیش اس بل کو مسترد کر دے
