کراچی( نیوز لیب رپورٹ)کسٹمز کے مارکیٹوں میں اچانک چھاپوں سے تاجروں میں خوف و ہراس اور کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے ، اقبال کلاتھ مارکیٹ میں تمام سامان مقامی طور پر تیار شدہ تھا پھر بھی اسے ضبط کر لیا گیا، رات کے وقت چھاپوں میں سامان چوری ہونے کی شکایات بھی ہیں ، کراچی چیمبر میں کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ معین الدین وانی کی آمد کے موقع پر تاجروں کی جانب سے شکایات کے انبار ،کے سی سی آئی کی کسٹمز، ویلیوایشن سب کمیٹی کے چیئرمین عارف لاکھانی نے کہا کہ چھاپوں سے پہلے پیشگی مشاورت بہت اہم ہے،ہم انفورسمنٹ کے خلاف نہیں لیکن بغیر اطلاع اچانک چھاپے صرف خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں اور کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ کسٹمز کا ایک حالیہ چھاپہ جس میں کسٹمز نے رینجرز اور پولیس کی مدد بھی حاصل کر رکھی تھی ،اس کاروائی میں ایک بڑی مارکیٹ سے بڑی مقدار میں سامان ضبط کیا حالانکہ کوئی غیر قانونی درآمد نہیں تھی،اسی طرح ایک واقعہ اقبال کلاتھ مارکیٹ کا ہے جہاں معائنے سے معلوم ہوا کہ تمام سامان مقامی طور پر تیار شدہ تھا پھر بھی اسے ضبط کر لیا گیا جس سے تاجروں کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، تاجروں کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کا مسئلہ سرحدوں پر ہے وہاں سے مال کراچی پہنچ جاتا ہے یہ تشویش ناک ہے،تاجروں کی شکایات پر کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ معین الدین وانی نے اعلان کیا ہے کہ محکمہ کسٹمز آزمائشی طور پر اپنے اگلے 4 چھاپے متعلقہ ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے ساتھ تعاون سے انجام دے گا ، اگر یہ طریقہ کار کامیاب رہا تو اسے مستقل پروٹوکال کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ تاجر برادری میں بغیر اطلاع اور اچانک چھاپوں کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کو دور کیا جاسکے، انہوں نے یقین دلایا کہ اب ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے قانونی انفورسمنٹ اور کاروباری آسانی میں توازن قائم ہو سکے،کلکٹر کسٹمزنے شرکاء کو یقین دلایا کہ اگر کوئی انفورسمنٹ ایجنسی غیر قانونی طور پر مال ضبط کرے یا چوری کرے تو تاجروں کو ایف آئی آر درج کرانے کا پورا حق حاصل ہے اور ہم سخت محکمہ جاتی کارروائی سے بھی گریز نہیں کریں گے، کلکٹر کسٹمز نے یہ بھی بتایا کہ لاہور کی اتھارٹیز الزام عائد کرتی ہیں کہ کراچی سے اسمگل شدہ مال لاہور پہنچ رہا ہے جبکہ کراچی کے تاجر شکایت کرتے ہیںکہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کلکٹر کسٹمز نے کہا کہ ہمیں روزانہ انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوتی ہیں اور ہم قابلِ اعتبار معلومات پر کارروائی کرنے کے پابند ہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ہر اطلاع درست نہیں ہوتی۔ہمارا مقصد کسی کو تنگ کرنا نہیں بلکہ غیر قانونی تجارت کو روکنا ہے۔کلکٹر کسٹمز نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اسمگلنگ بالخصوص سرحدی داخلی مقامات پر ایک مستقل مسئلہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق بارڈر کنٹرول کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ صرف شہروں کے اندر چھاپوں پر انحصار کیا جائے۔انہوں نے رات کے اوقات میں کارروائیوں کے حوالے سے شکایات پرکہا کہ دن کی کارروائیوں میں اکثر مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کسٹمز اہلکار زخمی ہوتے ہیں اور بعض اوقات تصادم اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ فائرنگ تک بات پہنچ جاتی ہے ۔ہم تاجروں کی ان اچانک کارروائیوں سے درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں اسی لیے ہم اب ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹریٹجیز کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال بھی شامل ہے۔ جلد ہی کراچی میں دو سے تین نئے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ انسانی معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی پر مبنی کارروائیاں کی جا سکیں
