کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) پاکستان میں گاڑی خریدنے والے رک جائیں ،بجٹ تک انتظار کر لیں ، بڑی خوش خبری ملے گی،ایک جانب تمام گاڑیوں کی قیمت میں کمی ہو گی دوسری جانب 10 لاکھ روپے سے کم قیمت والی پاکستان کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک سڑکوں پر آ جائے گی،لیتھم بیٹری کی قیمت بھی کم ہو جائے گی ،2 پاکستانی کمپنیاں 2026 میں لیتھم کی پیداوار شروع کر دیں گی ، عوام کے لئے یہ خوش خبریاں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور نے ایک روز قبل اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئےسنائیں ، حماد علی منصور نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک سڑکوں پر آنے والی ہے، جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رکھی جائے گی، جبکہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکس میں نمایاں کمی کا منصوبہ بنا رہی ہے، آٹو سیکٹرز کے خوش خبری یہ ہے کہ ان پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو گا اور عوام کے لئے اچھی خبر ہے کہ کہ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ،امید ہے یہ قیمت 25 لاکھ روپے تک گھٹ جائے گی
،انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی ملک کی مقامی پیداواری لائنوں سے تیار ہو کر مارکیٹ میں آئے گی۔“میڈ اِن پاکستان” الیکٹرک گاڑی کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لاہور میں قائم کیا گیا ہے اور اس گاڑی کی متوقع قیمت 10 لاکھ روپے سے کم ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو چار پہیوں والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہونے میں مدد دینا ہے۔ یہ گاڑی ایک بار چارج کرنے پر تقریباً 180 کلومیٹر تک سفر کر سکے گی، جس سے یہ روزمرہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک عملی اور مناسب آپشن بن جائے گی۔حماد منصورنے مزید انکشاف کیا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکس میں نمایاں کمی کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد عام لوگوں کے لیے گاڑیاں زیادہ سستی بنانا اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑی آٹو موبائل کمپنیوں کی طویل عرصے سے قائم اجارہ داری اب مؤثر طور پر ختم ہونے جا رہی ہے اور مزید دو سے تین کمپنیوں نے بھی ملک میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے،انھوں نے یہ بھی بتایا کہ لیتھم بیٹری بھی اب پاکستان میں تیار ہو رہی ہے ایک کمپنی مئی تک جبکہ دوسری ستمبر تک اپنی پیدوار شروع کر دے گی ،حماد منصور نے بتایا کہ آئندہ آٹو پالیسی کے تحت وزیر اعظم نے مقامی آٹو سیکٹر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو صنعتی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ “میڈ اِن پاکستان” گاڑیوں کو بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں، جس کے لیے 100 ارب روپے کے برآمدی مراعاتی پیکج مختص کیے گئے ہیں
