کراچی ( نیوز لیب رپورٹ)آئی ایم ایف کی شرائط ،حکومت کے لئے گلے کی ہڈی،ایک جانب پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کر کے ان کی درآمد کی اجازت دے دی جائے گی تو دوسری جانب مقامی گاڑیاں تیار کرنے والے آٹو مینوفیکچررز نے حکومت کو دھمکی دےدی ہے کہ وہ پاکستان میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی بڑی کمپنیوں کی طرح پاکستان میں مینوفیکچرنگ بند کر کے پرانی گاڑیاں درآمد کرکے مارکیٹ میں بیچنا شروع کر دیں گے،ان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیرف پالیسی (این ٹی پی) 2025-30 میں متعارف کرائی گئی تجاویز کی وجہ سے یہ صنعت تباہی کے دہانے پر ہے، حکومت کی پالیسی سے 20 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں اور سالانہ 878 ارب روپے کی آمدنی کے ساتھ 302 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ آٹو انڈسٹری کے نمائندوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے خزانہ و ریونیو اور صنعت و پیداوار کے مشترکہ اجلاس میں اپنا یہ موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی ہماری صنعت کی بقا کے لیے خطرہ ہے،انھوں نے این ٹی پی کی نئی پالیسی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے لئےبہتر ہے کہ ہم پیداوار ہی روک دیں کیونکہ یہ ٹیرف پالیسی صنعت کو مکمل طور پر ختم کر دے گی، آٹو مینوفیکچررز کا کہنا ہے پاکستان میں گاڑیاں حکومت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکس کی وجہ سے مہنگی ہیں ، حکومت 60 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصول کرتی ہے۔ اگر حکومت گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا چاہتی ہے تو یہ ٹیکس کم کرکے گاڑیاں سستی کی جا سکتی ہیں ،ایک کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ٹویوٹاکی ایس یو وی پر 1 کروڑ 44 لاکھ روپے حکومت ٹیکس وصول کرتی ہے، جبکہ اس کی مارکیٹ قیمت 2 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے،اگر حکومت ٹیکس ختم کر دے تو یہ ایک کروڑ کی گاڑی ہے اس موقع پر حکومتی موقف جو کہ وزارتِ تجارت کے حکام نے نے پیش کیا اس میں کہا گیا ہےکہ پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے یہ وعدہ کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ وہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر پورا اتریں، اور یہ عمل مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (30 ستمبر 2025 تک) مکمل ہوگا،وزارت تجارت حکام کے مطابق مالی سال 2026 میں استعمال شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح نئی گاڑیوں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ رکھی جائے گی۔ یہ فرق ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم کیا جائے گا اور 2030 تک مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔وزارتِ تجارت نے موقف اختیار کیا کہ یہ اصلاحات پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ڈھانچہ جاتی وعدوں کا حصہ ہیں، جو تجارتی آزادی، صارفین کو بہتر اور ماحول دوست گاڑیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔وزارتِ تجارت کے حکام نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر پر عائد ٹیرف کو معقول بنایا جائے گا تاکہ مسابقت، پیداواری صلاحیت اور صارفین کی فلاح میں اضافہ ہو۔موجودہ “آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26” جون 2026 تک نافذ العمل ہے۔ نئی آٹو پالیسی یکم جولائی 2026 سے لاگو ہوگی، جس میں کسٹمز ڈیوٹی کی بڑی کمی شامل ہوگی،نئی پالیسی میں ایس آر او 655،656 اور 693 کا جائزہ لیا جائے گا، تمام ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کی جائیں گی، اور کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کم کی جائے گی۔این ٹی پی 2025-30 کا مقصد مجموعی ٹیرف کمی ہے، جس میں چار سال کے اندر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیزکا خاتمہ، پانچ سال میں ریگولیٹری ڈیوٹیز اور پانچویں شیڈول کا خاتمہ،شامل ہے نئی پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی کے 4 سلیب ہو نگے،صفر فیصد،5 فیصد،10 فیصد اور 15 فیصد ، زیادہ سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی 15 فیصد ہو گی ،اگرچہ تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ کمیٹی نے استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو معقول بنانے کی سفارش کی ہے لیکن زیادہ امکان یہ ہی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی ،اس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ نئی ٹیرف پالیسی سے مسابقتی مارکیٹ قائم ہو گی لیکن عملی صورتحال یکسر مختلف ہو گی
