کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) 10 روپے کا نوٹ ختم کر دیا جائے ، اربوں روپے کی بچت کے لئے اس کی جگہ سکہ لانے کی سفارش،یہ سفارش آئی سی ایم اےکی جانب سے سامنے آئی ہے ،انسٹی ٹیویٹ آف کاسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاونٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ لانے سے آئندہ 10 برس میں 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ممکن ہے،آئی سی ایم اے ریسرچ رپورٹ کے مطابق 10 روپے کا نوٹ روزمرہ زندگی میں ہر جگہ استعمال ہوتا ہے، چائے کے ہوٹلوں اور بسوں سے لے کر کریانہ دکانوں اور بازاروں تک۔ ایک کپ چائے سے لے کر بس کے کرائے تک، 10 روپے کا نوٹ تقریباً ہر لین دین کا حصہ ہے، لیکن اس کی مختصر مدتِ استعمال ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ نوٹ جلد خراب ہو جاتا ہے اور اس کی اوسط عمر صرف چھ سے 9ماہ ہوتی ہے۔ بار بار چھپائی اور تبدیلی کے باعث سالانہ تقریباً 8 سے 10 ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2022-23 کے مطابق، اگرچہ یہ نوٹ مجموعی طور پر چھاپے جانے والے نوٹوں کا ایک تہائی سے زائد حصہ ہے، مگر زیرِ گردش کرنسی کی کل مالیت میں اس کا حصہ صرف 1.2 فیصد ہے۔ یہ عدم توازن پرنٹنگ سہولیات پر دباؤ ڈالتا ہے، عملیاتی اخراجات بڑھاتا ہے اور بار بار تیاری کے باعث ماحولیاتی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے
۔آئی سی ایم اے کے تجزیے کے مطابق، 2016 میں متعارف کرایا گیا 10 روپے کا سکہ ایک سادہ اور عملی حل پیش کرتا ہے۔ سکے 20 سے 30 سال تک کارآمد رہنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، عوام میں وسیع پیمانے پر قبول کیے جاتے ہیں اور وینڈنگ مشینوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایہ وصولی جیسے خودکار نظاموں کے ساتھ بہتر طور پر کام کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان منٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ لانے سے آئندہ دس برسوں میں 40 سے 50 ارب روپے کی بچت ممکن ہے اور بار بار آنے والے اخراجات کو ایک دیرپا قومی اثاثے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔دیگر ممالک کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کم مالیت کے نوٹوں کی جگہ سکے متعارف کرانا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ برطانیہ نے 1983 میں ایک پاؤنڈ کا نوٹ سکہ سے تبدیل کیا، کینیڈا نے 1987 میں ایک ڈالر اور 1996 میں دو ڈالر کے نوٹ کی جگہ سکے متعارف کرائے، جبکہ آسٹریلیا نے 1984 میں ایک ڈالر اور 1988 میں دو ڈالر کے نوٹ کی جگہ سکے جاری کیے۔ ان ممالک کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی قبولیت ہموار رہتی ہے، اخراجات کم ہوتے ہیں اور عملیاتی کارکردگی بہتر ہوتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق نوٹ سے سکے پر منتقلی کے عمل کی مدت 3 سال رکھی جائے
