کراچی ( نیوزلیب رپورٹ) کراچی ( نیوزلیب رپورٹ)عالمی اور قومی سطح پر سونے اور چاندی میں بڑھتی سرمایہ کاری سے سونے اور چاندی کی قیمت مسلسل بلندی کی جانب گامزن ،پیر کو پاکستان میں سونے کی قیمت 10900روپے اور چاندی کی قیمت 627 روپے فی تولہ کے اضافے سے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ،آل پاکستان صرافہ جیم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پیر 26 جنوری کوعالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 109 ڈالر فی اونس کے اضافے سے 4988 ڈالر سے بڑھ کر 5097 ڈالر فی اونس پرپہنچ گئی ہے ،اسی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمت 10900 روپے فی تولہ کے اضافے سے 5 لاکھ 32 ہزار 62 روپے فی تولہ اور 10 گرام سونے کی قیمت 9345 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 56 ہزار 157 روپے ہو گئی ہے ، رپورٹ کے مطابق پیر کو عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 6.27 ڈالر کے اضافے سے 109.53 ڈالر فی اونس کی بلند سطح پر پہنچ گئی جس سے پاکستان میں بھی چاندی کی قیمت بھی 627 روپے کے اضافے سے 11428 روپے فی تولہ پر پہنچ گئی ہے
،ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی کشیدگی اور امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) اثاثوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔لندن کی مارکیٹ میں چاندی کی فزیکل لیکوڈٹی کا مسئلہ ہے یعنی چاندی دھات کے طور پر دستیاب نہیں ،اسی وجہ سےگزشتہ ایک سال کے دوران چاندی کی قیمت میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، عالمی ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں مسلسل سپلائی کی کمی بھی چاندی کے اضافے کی بڑی وجہ ہے ۔ لندن گولڈ مارکیٹ کے ایک ٹائیکون کا موقف ہے “انتہائی غیر یقینی معاشی اور سیاسی حالات میں سونے کا محفوظ پناہ گاہ اور سرمایہ کاری میں تنوع کا کردار اسے اسٹریٹجک پورٹ فولیوز کے لیے ناگزیر بنا رہا ہے۔ یہ محض ایک عارضی طوفان نہیں بلکہ بنیادی طور پر بدلتے ہوئے دور کی علامت ہے۔”2026 کے آغاز سے امریکا اور نیٹو کے درمیان گرین لینڈ پر کشیدگی، فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر خدشات، اور ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے محفوظ اثاثوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری اور ڈالر سے دوری کے رجحان نے بھی سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔ چونکہ سونا منافع نہ دینے والا اثاثہ ہے، اس لیے کم شرحِ سود کے دوران اسے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
