کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس ، مقتول اور ملزمان کا تعلق ایک ہی برادری سے نکلا، گرفتار تینوں ملزمان کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے، گرفتار ملزمان میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔پولیس کی شاندار کارکردگی 36 گھنٹوں میں ملزمان گرفتار کر لئے گئے، ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا، ڈی آئی جی سی آئی اے کراچی مقدس حیدر نے پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ نجی اور سیف سی کیمروں کی جانچ سے ملزمان گرفتار ہوئے ،دونوں پولیس افسران نے بتایا کہ فریئر کے علاقے میں ڈاکوؤں نے ڈاکٹر آکاش کو نشانہ بنایا۔ واقعہ کے بعد کمانڈ اینڈ کنٹرول کے، نجی اور سیف سی کے کیمروں کی جانچ کی، سو سے زائد سی سی ٹی وی دیکھی، ٹچر کی پہلے شناخت ہوئی اور پھر ملوث ساتھیوں کی بھی تلاش شروع کی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بڑی کامیابی ملی، دو موٹر سائیکلوں کے علاؤہ ایک کار بھی واردات میں استعمال کی، ملزمان کی گاڑی ڈیفنس میں دکھی جہاں پولیس نے اسے روکا، تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ان کا کہنا تھا کہ سامان بھی برآمد، موبائل فون کیش اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا، مقتول کی فیملی کو بڑے خدشات تھے لیکن پولیس مسلسل رابطے میں رہیں، واردات کا مقدمہ کل فرئیر تھانے میں درج کرلیا گیا۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا، تینوں ملزمان پہلے بھی اس نوعیت کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں، ایک ملزم اشتہاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کے قریب ہی فرنچ قونصلیٹ سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، وہاں پر کیمروں کی مانیٹرنگ ہوتی رہتی ہے، آج سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ہی ہم ملزم تک پہنچے ہیں۔ڈی آئی جی سائوتھ نے کہا کہ ملزمان کو سی سی ٹی وی کے ذریعے ہی گرفتار کیا گیا، تینوں ملزمان کا ڈیجیٹل ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا، تینوں ملزمان آپس میں رابطے میں تھے، جہاں سے پیسے نکالے گئے بوٹ بیسن سے وہاں بھی ملزمان موجود تھے۔واردات کے وقت 4 ملزمان موٹر سائیکلوں پر اور ایک ملزم کار میں تھا جو بیک اپ پر تھا، دیگر بھی اگر ملزمان ملوث ہوئے تو وہ بھی پکڑے جائیں گے۔ڈی آئی جی سی آئی اے نے کہا کہ اس سال ڈکیتی کے دوران قتل کے 85 فیصد کیس حل ہو ئے ہیں، اس سال سائوتھ میں ڈکیتی کے دوران قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے، گرفتار ملزمان کا تعلق بھی ہندو برادری سے ہے۔ تینوں ملزمان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے اور وہ قائد آباد کے رہائشی تھے، ہم نے میرٹ پر تفتیش کی ہے پولیس پر کوئی دبائو نہیں تھا، ایک منفی پروپیگنڈا کیا جارہا تھا لیکن ایسا نہیں ہے، ایک شوٹر ہے سریش ہے وہ گرفتار ہے دیگر دو ساتھی بھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سریش پر مختلف تھانوں میں دس مقدمات درج ہیں، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے، اتفاق سے مقتول اور ملزمان کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے۔
