کراچی (نیوز لیب رپورٹ)پاکستان میں کاروباری خواتین کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی سہولتوں تک خواتیں کی رسائی آسان بنانے کے لئےعالمی بینک گروپ کے رکن ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کا اے ایس اے مائیکروفنانس بینک کو ایک کروڑ ڈالر قرض دینے کا اعلان، یہ قرض پاکستان بھر میں خواتین کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کو مزید قرضے فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔آئی ایف سی فنانشل انسٹی ٹیوشنز گروپ کی ریجنل انڈسٹری ڈائریکٹر مومنہ اعجازالدین نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں خواتین کاروبار چلا رہی ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہی ہیں،، تاہم اس کے باوجود وہ بڑی حد تک رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں،خواتین کو قرض دینا صرف درست اقدام ہی نہیں بلکہ ایک اچھا کاروباری فیصلہ بھی ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمی بینک گروپ کے رکن ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اے ایس اے مائیکروفنانس بینک (پاکستان) لمیٹڈ میں ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سرمایہ کاری چار سالہ قرض کی شکل میں ہوگی، جس کا مقصد خواتین مائیکروفنانس قرض لینے والوں کے لیے مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی میں معاونت کرنا ہے۔یہ قرض اے ایس اے مائیکروفنانس بینک کی جانب سے پاکستان بھر میں خواتین کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباروں کو مزید قرضے فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آئی ایف سی کی چار سالہ فنانسنگ سے بینک کو نقدی کی دستیابی اور مالی استحکام حاصل ہوگا، جس کے باعث وہ مزید صارفین کو خدمات فراہم کر سکے گا اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے کر مضبوط بنا سکے گا۔آئی ایف سی کی یہ سرمایہ کاری انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن پرائیویٹ سیکٹر ونڈو بلینڈڈ فنانس فیسلٹی کے تعاون سے کی جا رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری آئی ایف سی کے ایم ایس ایم ای فنانس پلیٹ فارم ، بیس آف دی پیرامڈ انویلپ کے تحت کی جائے گی، جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں چھوٹے کاروباروں کی معاونت کے لیے مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں مدد کرتا ہے۔یہ سرمایہ کاری پاکستان کے مالیاتی شعبے میں موجود ایک اہم خلا کو پورا کرنے کی کوشش ہے، جہاں مالی سہولتوں تک رسائی اب بھی محدود ہے۔ پاکستان کے صرف 27 فیصد بالغ افراد کو بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروںکے لیے مالیاتی خلا تقریباً 57.8 ارب ڈالر، یعنی ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کے 20 فیصد کے برابر ہے۔تقریباً 39 فیصد ایم ایس ایم ایز کو قرضوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خواتین اور مردوں کے درمیان مالی سہولتوں تک رسائی کا فرق بھی خاصا نمایاں ہے۔ رسمی بینک اکاؤنٹ رکھنے والی خواتین کا تناسب مردوں کے مقابلے میں 30.4 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 میں پاکستان 148 ممالک میں آخری نمبر پر ہے، جبکہ ملک میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح صرف 22.6 فیصد ہے۔براہِ راست سرمایہ کاری کے علاوہ، آئی ایف سی بینک کو ہدفی مشاورتی خدمات بھی فراہم کرے گا، جن کا مقصد بینک کے صنفی بنیادوں پر تقسیم شدہ ڈیٹا رپورٹنگ کے نظام اور طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے، تاکہ وقت کے ساتھ خواتین قرض لینے والوں کی ضروریات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھا اور پورا کیا جا سکے۔اے ایس اے مائیکروفنانس بینک (پاکستان) لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نازر منہاج نے کہا کہ یہ شراکت داری ان خواتین کو تسلیم کرنے اور معاونت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو پہلے ہی کاروبار چلا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان بھر میں مزید خواتین کو مالی سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے وہ اپنے کاروبار کو مضبوط بنانے اور اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو آگے بڑھانے کے قابل ہوں گی۔
