کراچی( نیوز لیب رپورٹ ) ملک بھر کی صنعت و تجارت کے نمائندہ ادارے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تیز رفتاری سے انڈسٹر ی ختم ہو رہی ہے، سینکڑوں صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں اور سرمایہ بڑی تیزی سے دوست ممالک کی طرف منتقل ہو رہا ہے،حکومت ملک میں فوری معاشی ایمرجنسی نافذ کرے اور 5 سال صنعتی پالیسی کا اعلان کرے ،وزیراعظم سے درخواست ہے کہ جلد فیصلے کریں کیوں کہ انڈسٹری وینٹی لیٹر پر ہے، ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے سرپرستِ اعلیٰ، یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) ایس ایم تنویز کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہی ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے،کاروباری برادری کے نمائندے عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی انکریمنٹل پیکیج کو مسترد کرتی ہے؛ کیونکہ تاحال کسی بھی صنعت کو 22 روپے فی یونٹ بجلی کا بل موصول نہیں ہوا، جبکہ صنعتوں کو مسلسل 34 تا 35 روپے فی یونٹ کے بل موصول ہو رہے ہیں۔پاکستان میں ریجن کے مقابلے میں غیر مسابقتی بجلی کے نرخ، بلند شرحِ سود اور سخت ٹیکس نظام کے مہلک امتزاج نے مقامی صنعت کے لیے عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے جمود کا شکار رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی حالت زار کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اس شعبے کی بدحالی کے باعث اس سے وابستہ 40 مزید صنعتیں بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ انتہائی زیادہ انکم ٹیکس کے باعث صنعت دباؤ میں ہے، صنعت پر انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد اورتنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس 15 فیصد کا جائے ۔ اسی طرح برآمدی مسابقت کے لیے صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گیس کا ٹیرف موجودہ 3,900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم کر کے 2,400 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کیا جائے۔انہوں نے یوٹیلیٹی اخراجات میں تشویشناک فرق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی برآمدکنندگان اس وقت 12.5 سینٹ فی یونٹ بجلی ادا کر رہے ہیں؛ جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے علاقائی حریف ممالک میں یہی لاگت 6 سے 9 سینٹ فی یونٹ ہے، جو پاکستانی مصنوعات کے بڑے عالمی مقابل ہیںاس فرق کے باعث ملک میں تیز رفتاری سے انڈسٹر ی ختم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں اور سرمایہ بڑی تیزی سے دوست ممالک کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ صنعت اب کراس سبسڈی کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی؛ کیونکہ یہ درحقیقت قومی پیداوار اور انڈسٹری کی قیمت پر دیگر شعبوں کو دی جانے والی امداداور ایک پوشیدہ ٹیکس ہے،
ایس۔ ایم۔ تنویر نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو پاکستان کی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس وقت بحران سے دوچار ہے اور 100 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔ انہوں نے افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے بلند شرحِ سود پر انحصار کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لیکویڈیٹی کا بحران پیدا ہوا، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی رک گئی اور صنعتی توسیع مکمل طور پر سست ہو گئی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے کم کر کے فو ری طور پر 9 فیصد کیا جائے اور بعد ازاں اگلے تین ایم پی سی اجلاسوں میں بتدریج اسے 6 فیصد تک لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدی صنعت کے لیے خصوصی ٹیرف اور ٹیکسوں میں معقول کمی نہ کی گئی تو پاکستان اپنے برآمدی اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔پیٹرن ان چیف یو بی جی ایس ایم تنویر نے ایک کثیر الجہتی بحالی منصوبہ پیش کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل سے بھی مداخلت کی اپیل کی۔ ایف پی سی سی آئی کے مطالبات میں آئی پی پیز کے لیے مکمل ٹیک اینڈ پے ماڈل کا نفاذ، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت تمام زیر التواء سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی، برآمدی شعبے کے لیے فوری طور پر 9 سینٹ فی یونٹ فلیٹ بجلی ٹیرف اور اگلے سال تک اسے 7 سینٹ فی یونٹ تک کم کرنا شامل ہے۔ایس ایم تنویر نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے صنعت کو معاشی وسائل اور مالی مراعات پر اولین حق نہ دیا تو اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ اور زرمبادلہ کے شدید نقصانات ہوں گے، جو ملک کو ایک ناقابلِ واپسی معاشی زوال کی طرف دھکیل دیں گے۔
