کراچی( نیوزلیب رپورٹ)معرکہ معیشت،یا پھر ایف پی سی سی آئی کی صدارت،ہدف کیا ہے ؟ ایف پی سی سی آئی میں برسر اقتدار گروپ یوبی جی اور اپوزیشن گروپ بی ایم پی نےاعلان کیا ہے کہ معرکہ معیشت کے لئے انھوں نے اتحاد کر لیا ہے ،اتحاد کا اعلان کر دیا ،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری( ایف پی سی سی آئی ) کے ریجنل آفس لاہور میں سابق وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز یو بی جی کے سرپرستِ اعلی ایس ایم تنویر،بزنس مین پینل کے چیئرمین و سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دفاع مضبوط بنایا ملک کو کھڑا کیا ہم بزنس کمیونٹی اتحاد سے ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ، حکومت چند رئیسوں کی بجائے 400 سے زائد چیمبرز فیڈریشن رہنماں کی مشاورت سے معاشی اصلاحات لائے اور باقی آئی پی پیز سے فوری معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔ دونوں گروپ لیڈرز نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق جیت کر ملک کو ناقابل تسخیر بنایا ہم آج اعادہ کرتے ہیں کہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے، انھوں نے کہا کہ حکومت چند بڑے ٹائیکون کے ساتھ ملکر فیصلے نہ کرے بلکہ اصل بزنس کمیونٹی سے مشاورت سے اصلاحات لائے۔ آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ہمارا عزم ہے۔بزنس لیڈر ایس ایم تنویر اور میاں انجم نثار نے کہا کہ سید عاصم منیر نے پاکستان کو دنیا بھر میں مقام دلایا ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں بزنس کمیونٹی معاشی ترقی کے لئے حکومت کا ہراول دستہ ہے۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے سربراہ گوہر اعجاز نے کہا کہ ہم نے تمام بزنس کمیونٹی کے اختلافات ختم کروا کے یہاں اکٹھا کر دیا اب حکومت ان کے شرح سود بجلی گیس اور ٹیکسوں کی بھرمار کے مطالبات بیٹھ کر حل کرائے ، ملک کومعاشی قوت بنانے کا وعدہ ہم کرتے ہیں،ایف پی سی سی آئی کی سیاست بارے آگہی رکھنے والے ایک سینئرصحافی کا اس بارے میں تبصرہ ہے کہ یہ مستقبل کی صدارت کا معاہدہ ہے،جس سے یوبی جی کراچی کے بیشتر رہنماخوش نہیں ،تاہم دوسری جانب بی ایم پی کے وہ رہنما جوکہ ایف پی سی سی آئی سے آوٹ ہو گئے تھے بہت خوش نظر آتے ہیں ،اس اتحاد کا مستقبل کیا ہو گا آنےوالے دونوں میں واضح ہو جائے گا
