کراچی ( نیوز لیب رپورٹ ) سندھ ہائی کورٹ کابڑا فیصلہ، اربوں روپے کی کرپشن کے 10 اہم ریفرنسز بحال کر دیے،نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر علی رضا، معروف صنعت کار اقبال زیڈ احمد ،سابق چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ریٹائرڈ وائس ایڈمرل احمد حیات، قاضی وہاب ، افتخار قائم خانی اور دیگر کے خلاف کرپشن ریفرنسز کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر فورمز کو منتقل کر دیا گیا تھا،سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ان درخواستوں کو منظور کر لیا جن میں اربوں روپے مالیت کے بدعنوانی ریفرنسز کو احتساب عدالتوں سے دیگر عدالتوں میں منتقل کرنے کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب کی جانب سے دائر تمام ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں ہی زیرسماعت تصور کیے جائیں گے اور یہ ریفرنس احتساب عدالتوں میں ہی چلیں گے ،عدالت نےسرکاری افسران کے خلاف دائر کرپشن ریفرنسز بحال کرتے ہوئے احتساب عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان مقدمات کی جلد سماعت مکمل کریں۔جسٹس محمد سلیم جیسّر کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر 15 درخواستوں پر فیصلہ سنایا، جن میں احتساب عدالتوں کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا ۔احتساب عدالتوں نے متعدد ملزمان کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے یہ ریفرنسز اس بنیاد پر عام عدالتوں یا دیگر فورمز کو منتقل کیے تھے کہ ترمیم شدہ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 5 میں مقرر مالی حد اور دفعہ 9(الف)میں بیان کردہ مالی منفعت کی شرائط ان مقدمات پر پوری نہیں ہوتیں۔عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ اگر نیب ان متنازع عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ریفرنسز اینٹی کرپشن عدالتوں یا دیگر فورمز کو بھیج چکا ہے تو وہ متعلقہ عدالتوں میں درخواستیں دائر کرکے یہ ریفرنسز واپس احتساب عدالتوں کو منتقل کرائے۔فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان درخواستوں میں بنیادی تنازع یہ ہے کہ 2022 میں قومی احتساب آرڈیننس میں کی گئی ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار اور ان ترامیم کے ماضی سے اطلاق نے زیر سماعت مقدمات کو کس طرح متاثر کیا۔صدیق میمن کیس2018 میں سابق چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن اور دیگر کے خلاف دائر ریفرنس میں الزام تھا کہ انہوں نے چھ ایکڑ سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر ریگولرائز کرکے قومی خزانے کو 55 کروڑ 17 لاکھ 60 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ترمیم شدہ نیب قانون کا فائدہ ملزمان کو دیتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ دفعات ایسے مقدمات پر کیسے لاگو ہوتی ہیں جن میں جعلسازی کے ذریعے سرکاری زمین نجی افراد کو منتقل کرنے کا الزام ہو۔فیصلے میں کہا گیا:”ریونیو افسران عوامی املاک کے امین ہوتے ہیں۔ اگر وہ جعلسازی کے ذریعے نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت کرکے سرکاری اراضی منتقل کرتے ہیں تو وہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ خیانت اور قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 9(الف)کے تحت جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔سابق چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریٹائرڈ وائس ایڈمرل احمد حیات اور دیگر کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں قومی خزانے کو 21 ارب 45 کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا الزام تھا۔احتساب عدالت نے یہ ریفرنس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اس بنیاد پر منتقل کیا تھا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ملازمین “سرکاری ملازم” کے زمرے میں نہیں آتے۔تاہم سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ٹرسٹیز اور افسران عوامی عہدے کے حامل سرکاری اہلکار ہیں، اور ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ خیانت کے الزامات قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 9(الف) کے تحت آتے ہیں، لہٰذا ان کا ٹرائل احتساب عدالت ہی کرے گی۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملزمان قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 4 کے تحت دستیاب قانونی رعایت کا دعویٰ کر سکتے ہیں، جس میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے بعض فیصلوں کو نیب قانون کے دائرہ کار سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر علی رضا اور دیگر کے خلاف کور بینکنگ ایپلی کیشن کی خریداری میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے ریفرنس کو بھی بحال کر دیا۔ اس مقدمے میں قومی خزانے کو 2 کروڑ 79 لاکھ امریکی ڈالر نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ بھی مجرمانہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے، ذاتی مالی فائدہ نہ اٹھانے کی دلیل اس مقدمے میں مؤثر نہیں۔عدالت نے معروف صنعت کار اقبال زیڈ احمد، سابق سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے افسر افتخار قائم خانی، بلڈر جاوید اقبال، رحیم بخش اور دیگر کے خلاف دائر کرپشن ریفرنسز بھی بحال کرتے ہوئے احتساب عدالتوں کو ان کی جلد سماعت جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے
